حدیث نمبر: 3259
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا هُشَيْمٌ أَنَا خَالِدٌ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ شَهِدَ جَنَازَةَ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَ: فَأَظْهَرُوا الْاسْتِغْفَارَ، فَلَمْ يُنْكِرْ ذَلِكَ أَنَسٌ، قَالَ هُشَيْمٌ: قَالَ خَالِدٌ فِي حَدِيثِهِ: وَأَدْخَلُوهُ مِنْ قِبَلِ رِجْلِ الْقَبْرِ، وَقَالَ هُشَيْمٌ مَرَّةً: إِنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ مَاتَ بِالْبَصْرَةِ فَشَهِدَهُ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ فَأَظْهَرُوا لَهُ الْاسْتِغْفَارَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

ابن سیرین کہتے ہیں کہ سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ ایک انصاری آدمی کے جنازہ میں شریک تھے، لوگوں نے اس کے حق میں بلند آواز سے دعائے مغفرت کی اور سیّدناانس رضی اللہ عنہ نے ان پر کوئی انکار نہیں کیا۔ خالد راوی نے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے کہا: انہوں نے میت کو قبر کے پاؤں کی طرف سے اتارا تھا۔ اور ہشیم راوی نے ایک مرتبہ اس حدیث کو یوں بیان کیا: بصرہ میں ایک انصاری آدمی فوت ہو گیا تھا، سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بھی اس کے جنازہ میں شریک تھے، لوگوں نے میت کے حق میں بآواز بلند دعائے مغفرت کی تھی۔

وضاحت:
فوائد: … ہم ’’جنازے کے ساتھ آگ لے جانے، چیخ و پکار کرنے اور عورتوں کے جانے کا ممنوع ہونا‘‘ کے باب میں یہ وضاحت کر چکے ہیں کہ میت کے پاس کون سی آواز منع ہے، نیز میت کو قبر میں اتارنے کی دعا کی بھی وضاحت ہو چکی، اِس حدیث سے مراد اتفاقی طور پر دعائیہ کلمات کی آواز کا بلند ہو جانا ہے۔ اس حدیث میں ایک اور اہم مسئلے کا بیان ہے، جس سے ہمارے ہاں عام طور پر غفلت برتی جا رہی ہے، اور وہ ہے میت کو اس کی قبر کی پاؤں والی سمت سے داخل کرنا، اس کی مرفوع دلیل یہ ہے:
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3259
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4080 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4080»