الفتح الربانی
أبواب صلاة الجنازة— نماز جنازہ کے ابواب
مِنْ أَيْنَ يُدْخَلُ الْمَيِّتُ قَبْرَهُ وَمَا يُقَالُ عِنْدَ ذَالِكَ وَمَنْ يُدْخِلُهُ ، وَمَا جَاءَ فِي الْحَشْيِ فِي الْقَبْرِ وَانْتِظَارِ الْفَرَاغِ مِنَ الدَّفْنِ باب: اس امر کا بیان کہ میت کو کہاں سے قبر میں داخل کیا جائے،اس وقت کیا کہا جائے اوراس کو اتارنے والا کون ہو، نیز قبر پر مٹی ڈالنے اور دفن سے فراغت کا انتظار کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 3258
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِذَا وَضَعْتُمْ مَوْتَاكُمْ فِي الْقَبْرِ، فَقُولُوا: بِاسْمِ اللَّهِ وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن عمر سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم اپنے فوت شدگان کو قبر میں اتارو تو یہ دعا پڑھا کرو: بِاسْمِ اللّٰہِ وَعَلٰی مِلَّۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ۔ (اللہ کے نام کے ساتھ اور اس کے رسول کے طریقے پر)۔
وضاحت:
فوائد: … اس دعا کے لفظ ’’مِلَّۃِ‘‘ کی بجائے ’’سُنَّۃِ‘‘ کہنا بھی درست ہے اور ایک حدیث میں اس دعا کے یہ الفاظ مذکور ہیں: بِاسْمِ اللّٰہِ وَبِاللّٰہِ وَعَلٰی مِلَّۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ۔