الفتح الربانی
أبواب صلاة الجنازة— نماز جنازہ کے ابواب
مِنْ أَيْنَ يُدْخَلُ الْمَيِّتُ قَبْرَهُ وَمَا يُقَالُ عِنْدَ ذَالِكَ وَمَنْ يُدْخِلُهُ ، وَمَا جَاءَ فِي الْحَشْيِ فِي الْقَبْرِ وَانْتِظَارِ الْفَرَاغِ مِنَ الدَّفْنِ باب: اس امر کا بیان کہ میت کو کہاں سے قبر میں داخل کیا جائے،اس وقت کیا کہا جائے اوراس کو اتارنے والا کون ہو، نیز قبر پر مٹی ڈالنے اور دفن سے فراغت کا انتظار کرنے کا بیان
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا وَضِعَتْ أُمُّ كُلْثُومٍ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فِي الْقَبْرِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: {مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ وَفِيهَا نُعِيدُكُمْ وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً أُخْرَى}، قَالَ: ثُمَّ لَا أَدْرِي أَقَالَ بِاسْمِ اللَّهِ، وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللَّهِ أَمْ لَا، فَلَمَّا بُنِيَ عَلَيْهَا لَحْدُهَا طَفِقَ يَطْرَحُ إِلَيْهِمُ الْجَبُوبَ، وَيَقُولُ: ((سُدُّوا خِلَالَ اللَّبِنِ))، ثُمَّ قَالَ: ((أَمَا إِنَّ هَذَا لَيْسَ بِشَيْءٍ وَلَكِنَّهُ يَطِيبُ بِنَفْسِ الْحَيِّ))سیّدناابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا کو قبر میں رکھا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت پڑھی {مِنْہَا خَلَقْنَاکُمْ … … تَارَۃً أُخْرٰی} (سورۂ طہ، ۵۵) (ہم نے تمہیں اسی مٹی سے پیدا کیا اور اسی میں تم کو لوٹائیں گے اور پھر اسی سے تم کو دوبارہ نکالیں گے) سیّدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں یہ نہیں جانتا کہ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ دعا پڑھی تھی یا نہیں: بِاسْمِ اللّٰہِ، وَفِی سَبِیْلِ اللّٰہِ، وَعَلٰی مِلَّۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ۔ (اللہ کے نام کے ساتھ،اللہ کی راہ میں اور اللہ کے رسول کے طریقے کے مطابق دفن کرتے ہیں)۔ جب لحد کی چنائی کر دی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کی طرف گارا پھینکا اور فرمایا: اس سے اینٹوں کے شگافوں کو پر کر دو۔ پھر فرمایا: یہ کوئی ضروری چیز نہیں ہے، بس زندہ لوگوں کا نفس ذرا مطمئن ہو جاتا ہے۔