الفتح الربانی
أبواب صلاة الجنازة— نماز جنازہ کے ابواب
اخْتِيَارُ اللَّحْدِ عَلَى الشَّقِّ وَتَعْمِيقِ الْقَبْرِ وَتَوْسِيعِهِ وَدَفْنِ الْاثْنَيْنِ وَالثَّلَاثَةِ فِي قَبْرٍ وَاحِدٍ إِذَا اقْتَضَى الْحَالُ ذَالِكَ باب: ’’لحد‘‘ کو ’’شَق‘‘ پر ترجیح دینا، قبر کو گہرا اور وسیع کرنا اور حالات کے تقاضے کے مطابق¤دو تین تین افراد کو ایک قبر میں دفنانا
حدیث نمبر: 3254
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: قُتِلَ أَبِي يَوْمَ أُحُدٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((احْفِرُوا وَأَوْسِعُوا وَأَحْسِنُوا، وَادْفِنُوا الاثْنَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ فِي الْقَبْرِ، وَقَدِّمُوا أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا (وَفِي رِوَايَةٍ أَكْثَرَهُمْ أَخَذًا لِلْقُرْآنِ) وَكَانَ أَبِي ثَالِثَ ثَلَاثَةٍ وَكَانَ أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا فَقُدِّمَ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) سیّدنا ہشام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میرے والد غزوہ احد والے دن شہید ہو گئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قبریں کھودو، وسیع کرو اور ان کو اچھا بناؤ اور دو دو، تین تین افراد کو ایک ایک قبر میں دفن کرو اور جس کو زیادہ قرآن یاد ہو، اسے آگے کی طرف رکھو۔ میرے باپ تین افراد میں سے تیسرے تھے، چونکہ ان کو قرآن زیادہ یاد تھا، اس لیے ان کو مقدم کر کے رکھا گیا۔
وضاحت:
فوائد: … معلوم ہوا کہ مجبوری کے وقت دو تین تین افراد کو ایک قبر میں دفن کرنا جائز ہے، جیسے زمین کا تنگ ہونا، کھودنے والوں پر شاق گزرنا، وغیرہ۔ نیز قبر گہری، وسیع اور خوبصورت ہونی چاہیے۔