الفتح الربانی
أبواب صلاة الجنازة— نماز جنازہ کے ابواب
اخْتِيَارُ اللَّحْدِ عَلَى الشَّقِّ وَتَعْمِيقِ الْقَبْرِ وَتَوْسِيعِهِ وَدَفْنِ الْاثْنَيْنِ وَالثَّلَاثَةِ فِي قَبْرٍ وَاحِدٍ إِذَا اقْتَضَى الْحَالُ ذَالِكَ باب: ’’لحد‘‘ کو ’’شَق‘‘ پر ترجیح دینا، قبر کو گہرا اور وسیع کرنا اور حالات کے تقاضے کے مطابق¤دو تین تین افراد کو ایک قبر میں دفنانا
عَنْ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَتِ الْأَنْصَارُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَصَابَنَا قَرْحٌ وَجَهْدٌ، فَكَيْفَ تَأْمُرُنَا؟ قَالَ: ((احْفِرُوا وَأَوْسِعُوا (زَادَ فِي رِوَايَةٍ: وَأَعْمِقُوا) وَاجْعَلُوا الرَّجُلَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ فِي الْقَبْرِ))، قَالُوا: فَأَيُّهُمْ نُقَدِّمُ؟ قَالَ: ((أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا))، قَالَ: فَقُدِّمَ أَبِي عَامِرٍ بَيْنَ يَدَي رَجُلٍ أَوْ اثْنَيْنِسیّدنا ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: غزوہ احد والے دن انصاری صحابہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! ہم بہت زخمی اور تھکے ہوئے ہیں، (اب ان شہداء کی تدفین کے بارے میں ) آپ ہمیں کیا حکم دیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قبریں کھودو اور ان کو وسیع اور گہرا کرو، اور دو دو اور تین تین آدمی ایک ایک قبر میں دفنا دو۔ انھوں نے کہا: ہم ان میں سے کس کو مقدم کر کے رکھیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جسے زیادہ قرآن یاد ہو۔ ہشام کہتے ہیں: چنانچہ میرے والدعامر کو ایک یا دو آدمیوں سے آگے رکھا گیا۔