الفتح الربانی
أبواب صلاة الجنازة— نماز جنازہ کے ابواب
اخْتِيَارُ اللَّحْدِ عَلَى الشَّقِّ وَتَعْمِيقِ الْقَبْرِ وَتَوْسِيعِهِ وَدَفْنِ الْاثْنَيْنِ وَالثَّلَاثَةِ فِي قَبْرٍ وَاحِدٍ إِذَا اقْتَضَى الْحَالُ ذَالِكَ باب: ’’لحد‘‘ کو ’’شَق‘‘ پر ترجیح دینا، قبر کو گہرا اور وسیع کرنا اور حالات کے تقاضے کے مطابق¤دو تین تین افراد کو ایک قبر میں دفنانا
حدیث نمبر: 3252
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((اللَّحْدُ لَنَا وَالشَّقُّ لِأَهْلِ الْكِتَابِ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (تیسر ی سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لحد ہمارے لیے ہے اور شق اہل کتاب کے لیے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ مسلمانوں کے لیے لحد افضل ہے، اگرچہ شق بھی جائز ہے، کیونکہ مدینہ میں لحد بنانے والا اور شق بنانے والا دونوں آدمی موجود تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کو برقرار رکھا ہوا تھا، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تدفین کے موقع پر صحابہ نے آپس میں یہ مشورہ کیا تھا کہ ان دو میں جو پہلے پہنچے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اسی کے عمل کو ترجیح دی جائے گی،چنانچہ لحد بنانے والا پہلے پہنچ گیا تھا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے لحد بنایا گیا۔ امام نووی نے کہا: اہل علم کا اس بات پر اجماع ہے کہ لحد اور شق دونوں میں میت کو دفن کرنا جائز ہے۔