حدیث نمبر: 3250
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔

عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا جَاءَ فَدَخَلَ فِي الْإِسْلَامِ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُهُ الْإِسْلَامَ وَهُوَ فِي مَسِيرِهِ فَدَخَلَ خُفُّ بَعِيرِهِ فِي جُحْرِ يَرْبُوعٍ فَوَقَصَهُ بَعِيرُهُ فَمَاتَ، فَأَتَى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((عَمِلَ قَلِيلًا وَأُجِرَ كَثِيرًا، قَالَهَا حَمَّادٌ، ثَلَاثًا، اللَّحْدُ لَنَا وَالشَّقُّ لِغَيْرِنَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنا جریر بن عبداللہ بَجَلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے آکر اسلام قبول کیا، ایک سفر کے دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے اسلام کی تعلیم دیتے رہے، چلتے چلتے اس کے اونٹ کا پاؤں ایک قسم کے چھوٹے چوہے کے بل پر جا پڑا، جس کہ وجہ سے وہ اونٹ سے گر کر فوت ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی میت کے پاس آئے اور فرمایاـ: اس نے عمل تو تھوڑا کیا، لیکن ثواب بہت زیادہ پا لیا۔)) حماد راوی نے یہ جملہ تین دفعہ دہرایا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : لحد ہمارے لیے ہے اور شق دوسروں کے لیے ہے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3250
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن بطرقه أخرجه ابن ماجه:1555، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19158، 19159 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19371»