الفتح الربانی
أبواب صلاة الجنازة— نماز جنازہ کے ابواب
اخْتِيَارُ اللَّحْدِ عَلَى الشَّقِّ وَتَعْمِيقِ الْقَبْرِ وَتَوْسِيعِهِ وَدَفْنِ الْاثْنَيْنِ وَالثَّلَاثَةِ فِي قَبْرٍ وَاحِدٍ إِذَا اقْتَضَى الْحَالُ ذَالِكَ باب: ’’لحد‘‘ کو ’’شَق‘‘ پر ترجیح دینا، قبر کو گہرا اور وسیع کرنا اور حالات کے تقاضے کے مطابق¤دو تین تین افراد کو ایک قبر میں دفنانا
اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔
عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا جَاءَ فَدَخَلَ فِي الْإِسْلَامِ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُهُ الْإِسْلَامَ وَهُوَ فِي مَسِيرِهِ فَدَخَلَ خُفُّ بَعِيرِهِ فِي جُحْرِ يَرْبُوعٍ فَوَقَصَهُ بَعِيرُهُ فَمَاتَ، فَأَتَى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((عَمِلَ قَلِيلًا وَأُجِرَ كَثِيرًا، قَالَهَا حَمَّادٌ، ثَلَاثًا، اللَّحْدُ لَنَا وَالشَّقُّ لِغَيْرِنَا))سیّدنا جریر بن عبداللہ بَجَلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے آکر اسلام قبول کیا، ایک سفر کے دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے اسلام کی تعلیم دیتے رہے، چلتے چلتے اس کے اونٹ کا پاؤں ایک قسم کے چھوٹے چوہے کے بل پر جا پڑا، جس کہ وجہ سے وہ اونٹ سے گر کر فوت ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی میت کے پاس آئے اور فرمایاـ: اس نے عمل تو تھوڑا کیا، لیکن ثواب بہت زیادہ پا لیا۔)) حماد راوی نے یہ جملہ تین دفعہ دہرایا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : لحد ہمارے لیے ہے اور شق دوسروں کے لیے ہے۔