الفتح الربانی
أبواب صلاة الجنازة— نماز جنازہ کے ابواب
بَابُ النَّهْيِ عَنْ سَبِّ الْأَمْوَاتِ وَذِكْرِ مَسَاوِئِهِمْ باب: مردوں کو برا بھلا کہنے اور ان کی خامیوں کو یاد کرنے سے ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 3249
عَنْ قُطْبَةَ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَمِّ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ قَالَ: نَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ عَلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ لَهُ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَدْ عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْهَى عَنْ سَبِّ الْمَوْتَى، فَلِمَ تَسُبُّ عَلِيًّا وَقَدْ مَاتَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
قطبہ بن مالک کہتے ہیں کہ جب سیّدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے سیّدناعلیؓ کے بارے میں کچھ نازیبا کلمات کہے تو سیّدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مردوں کو برا بھلا کہنے سے منع کیا کرتے تھے، لہٰذا تم سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کیوں کہتے ہو، جبکہ وہ وفات پا چکے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … اس باب کی اور اس موضوع کی دیگر کئی احادیث میں مردوں کو برا بھلا کہنے سے روکا گیا ہے، جبکہ گزشتہ باب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بعض مردوں کو برا بھلا کہا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، امام نووی نے اس ظاہری تناقض میں جمع و تطبیق کی یہ صورت پیش کی: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن مردوں کو گالیاں دینے سے منع فرمایا ہے، ان سے مراد وہ لوگ ہیں، جو منافق، کافر اور فسق یا بدعت کا اظہارکرنے والے نہ ہوں، وگرنہ ایسے بروں کا برا تذکرہ کرنا تو جائز ہے، تاکہ دوسرے لوگ ان کی اقتداء کرنے سے باز رہیں۔