الفتح الربانی
أبواب صلاة الجنازة— نماز جنازہ کے ابواب
بَابُ ثَنَاءِ النَّاسِ عَلَى الْمَيِّتِ وَشَهَادَتِهِمْ باب: لوگوں کا میت کی تعریف کرنااوراس کے حق میں گواہی دینا
عَنْ أَبِي قَتَادَةَ بْنِ رِبْعِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مُرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِجَنَازَةٍ قَالَ: ((مُسْتَرِيحٌ وَمُسْتَرَاحٌ مِنْهُ))، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا الْمُسْتَرِيحُ وَالْمُسْتَرَاحُ مِنْهُ؟ قَالَ: ((الْمُؤْمِنُ اسْتَرَاحَ مِنْ نَصَبِ الدُّنْيَا وَأَذَاهَا إِلَى رَحْمَةِ اللَّهِ تَعَالَى، وَالْفَاجِرُ اسْتَرَاحَ مِنْهُ الْعِبَادُ وَالْبِلَادُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ))سیّدنا ابوقتادہ بن ربعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا: یہ راحت پا گیا ہے یا دوسروں نے اس سے راحت پائی ہے۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کا کیا مطلب ہے کہ یہ راحت پا گیا ہے یا دوسروں نے اس سے راحت پائی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مومن دنیا کے مصائب اور تکلیفوں سے راحت پا کر اللہ کی رحمت میں چلا جاتا ہے اور فاجر آدمی سے دوسرے انسان، شہر، درخت اور چوپائے راحت پا جاتے ہیں۔