حدیث نمبر: 3240
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ أَنَّهُ قَالَ: أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَوَافَيْتُهَا وَقَدْ وَقَعَ فِيهَا مَرَضٌ فَهُمْ يَمُوتُونَ مَوْتًا ذَرِيعًا، فَجَلَسْتُ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَمَرَّتْ بِهِ جَنَازَةٌ فَأُثْنِيَ عَلَى صَاحِبِهَا خَيْرٌ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: وَجَبَتْ، ثُمَّ مُرَّ بِأُخْرَى فَأُثْنِيَ عَلَى صَاحِبِهَا خَيْرٌ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: وَجَبَتْ، ثُمَّ مُرَّ بِالثَّالِثَةِ فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا شَرٌّ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: وَجَبَتْ، فَقَالَ أَبُو الْأَسْوَدِ: مَا وَجَبَتْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ! قَالَ: قُلْتُ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَيُّمَا مُسْلِمٍ شَهِدَ لَهُ أَرْبَعَةٌ بِخَيْرٍ أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ))، قَالَ: فَقُلْنَا: وَثَلَاثَةٌ؟ قَالَ: فَقَالَ: ((وَثَلَاثَةٌ))، قَالَ: قُلْنَا: وَاثْنَانِ؟ قَالَ: ((وَاثْنَانِ))، قَالَ: ثُمَّ لَمْ نَسْأَلْهُ عَنِ الْوَاحِدِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

ابوالاسود کہتے ہیں: میں مدینہ منورہ آیا،ان دنوں وہاں ایک وبا پھیلی ہوئی تھی اور لوگ بڑی تیزی سے مر رہے تھے۔ میں سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ وہاں سے ایک جنازہ گزرا، اس کے حق میں دوسرے لوگوں کی طرف سے کلمۂ خیر کہا گیا، تو انھوں نے کہا: واجب ہو گئی۔ اس کے بعد ایک اور جنازہ گزرا، اس کے حق میں بھی تعریفی کلمات کہے گئے، تو انھوں نے کہا: واجب ہو گئی، اس کے بعد ایک تیسرا جنازہ گزرا، اس کی مذمت کی گئی، لیکن تب بھی انہوں نے کہا: واجب ہو گئی۔ابوالاسود نے کہا: امیر المومنین! کیا چیز واجب ہو گئی؟ سیّدناعمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے تو اسی طرح بات کی، جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمائی تھی کہ جس مسلمان کے حق میں چار آدمی خیر کی گواہی دے دیں، اللہ اسے جنت میں داخل کر دیتا ہے۔ ہم نے پوچھا: تین آدمی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین بھی۔ ہم نے پوچھا: اور دو آدمی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دو بھی۔ پھر ہم ایک آدمی کی گواہی کے بارے میں سوال نہ کر سکے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3240
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2643 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 139 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 139»