حدیث نمبر: 324
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ! إِنَّ أُمَّتَكَ مُخْتَلِفَةٌ بَعْدَكَ، قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: فَأَيْنَ الْمَخْرَجُ يَا جِبْرِيلُ! قَالَ: فَقَالَ: كِتَابُ اللَّهِ تَعَالَى، بِهِ يَقْصِمُ اللَّهُ كُلَّ جَبَّارٍ، مَنْ اعْتَصَمَ بِهِ نَجَا، وَمَنْ تَرَكَهُ هَلَكَ مَرَّتَيْنِ، قَوْلُهُ فَصْلٌ وَلَيْسَ بِالْهَزْلِ، لَا تَخْتَلِقُهُ الْأَلْسُنُ وَلَا تَفْنَى عَجَائِبُهُ، فِيهِ نَبَأُ مَا كَانَ قَبْلَكُمْ وَفَصْلُ مَا بَيْنَكُمْ وَخَبَرُ مَا هُوَ كَائِنٌ بَعْدَكَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جبریل علیہ السلام میرے پاس آئے اور کہا: اے محمد! آپ کی امت آپ کے بعد اختلاف کرنے والی ہے،“ میں نے کہا: ”اے جبریل! اس سے نکلنے کی راہ کیا ہو گی؟“ اس نے کہا: ”اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے، اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے ہر سرکش کو تباہ کرے گا، جس نے اس کو تھام لیا وہ نجات پا گیا، جس نے اس کو چھوڑ دیا وہ ہلاک ہو گیا،“ یہ بات دو دفعہ کہی، اس کی بات صحیح اور قطعی ہے اور مذاق نہیں ہے، اس کو زبانیں نہیں گھڑ سکتیں، اس کے عجائب ختم نہیں ہو سکتے، اس میں تمہارے اندر (کے نزاعات کا) فیصلہ ہے اور جو کچھ تمہارے بعد ہونے والا ہے، اس کی اس میں خبریں ہیں۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة / حدیث: 324
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف الحارث بن عبد الله الاعور، ثم ھو منقطع، لانه لا تعرف لمحمد بن اسحاق رواية عن محمد بن كعب القرظي، بل ھو يروي في السيرة عنه بواسطة۔ أخرجه الترمذي: 2906، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 704 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 704»