الفتح الربانی
أبواب صلاة الجنازة— نماز جنازہ کے ابواب
بَابُ ثَنَاءِ النَّاسِ عَلَى الْمَيِّتِ وَشَهَادَتِهِمْ باب: لوگوں کا میت کی تعریف کرنااوراس کے حق میں گواہی دینا
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ قَالَ: جَلَسَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَجْلِسًا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَجْلِسُهُ، تَمُرُّ عَلَيْهِ الْجَنَازَةُ، قَالَ: فَمَرُّوا فَأَثْنَوْا خَيْرًا، فَقَالَ: وَجَبَتْ، ثُمَّ مَرُّوا بِجَنَازَةٍ فَأَثْنَوْا خَيْرًا فَقَالَ وَجَبَتْ، ثُمَّ مَرُّوا بِجَنَازَةٍ فَقَالُوا خَيْرًا فَقَالَ: وَجَبَتْ، ثُمَّ مَرُّوا بِجَنَازَةٍ فَقَالُوا: هَذَا كَانَ أَكْذَبَ النَّاسِ، فَقَالَ: إِنَّ أَكْذَبَ النَّاسِ أَكْذَبُهُمْ عَلَى اللَّهِ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ مَنْ كَذَبَ عَلَى رُوحِهِ فِي جَسَدِهِ، قَالَ: قَالُوا: أَرَأَيْتَ إِذَا شَهِدَ أَرْبَعَةٌ؟ قَالَ: وَجَبَتْ، قَالُوا: وَثَلَاثَةٌ؟ قَالَ: وَجَبَتْ، قَالُوا: وَاثْنَانِ؟ قَالَ: وَجَبَتْ، وَلَأَنْ أَكُونَ قُلْتُ وَاحِدًا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ، قَالَ: فَقِيلَ لِعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: هَذَا شَيْءٌ تَقُولُهُ بِرَأْيِكَ أَمْ شَيْءٌ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: لَا، بَلْ سَمِعْتُهُ مِنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَعبداللہ بن بریدہ کہتے ہیں: سیّدناعمر رضی اللہ عنہ ایسی جگہ بیٹھے، جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھا کرتے تھے اور لوگ وہاں سے جنازے لے کر گزرتے تھے، (اس بار بھی) لوگ ایک جنازہ لے کر گزرے اور لوگوں نے اس کے حق میں تعریفی کلمات کہے، سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: واجب ہوگئی۔ اس کے بعد لوگ ایک اور جنازہ لے کر گزرے، اس کے حق میں بھی لوگوں نے کلمۂ خیر کہا، انہوں نے کہا: واجب ہو گئی، اس کے بعد لوگ ایک اور جنازہ لے کر گزرے، اس کی بھی مدح سرائی کی گئی، تو انھوں نے کہا: واجب ہو گئی۔ اس کے بعد لوگ پھر ایک جنازہ لے کر گزرے تو لوگوں نے کہا: یہ سب سے جھوٹا آدمی تھا، یہ سن کر سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا:جو آدمی لوگوں میں سب سے زیادہ جھوٹا ہو گا، وہ اللہ پر بھی سب سے زیادہ جھوٹ بولنے والا ہوتا ہے، اس سے کم درجہ جھوٹا وہ ہوتا ہے، جو اپنے جسم میں روح پر جھوٹ بولتا ہے۔ لوگوں نے پوچھا: آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر چار آدمی گواہی دیں تو؟ انھوں نے کہا: واجب ہو جائے گی، لوگوں نے کہا: اگر تین آدمی گواہی دیں تو؟ انھوں نے کہا: تب بھی واجب ہو جائے گی، لوگوں نے کہا: اگر دو آدمی گواہی دیں تو؟ انھوں نے کہا: پھر بھی واجب ہو جائے گی۔اور اگر میں نے ایک آدمی کی گواہی کے بارے میں بھی پوچھ لیا ہوتا تو یہ بات مجھے سرخ اونٹوں سے بھی زیادہ محبوب ہوتی۔ کسی نے سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: یہ سارا کچھ آپ اپنی رائے سے کہہ رہے ہیں یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے؟ انھوں نے کہا: جی نہیں، میں نے یہ ساری باتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہیں۔