حدیث نمبر: 3236
عَنْ حُسَيْنٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ أَوْ عَنْ أَحَدِهِمَا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ قَالَ: إِنَّمَا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَجْلِ جَنَازَةِ يَهُودِيٍّ مُرَّ بِهَا عَلَيْهِ فَقَالَ: ((آذَانِي رِيحُهَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنا حسین رضی اللہ عنہ اور سیّدناعبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ دونوں سے یا ان میں سے کسی ایک سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے ایک یہودی کا جنازہ گزرا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہو گئے اور فرمایا: مجھے اس کی بدبو نے تکلیف دی ہے۔

وضاحت:
فوائد: … جنازے کے لیے کھڑے ہونے کی وجوہات پچھلے باب میں گزر چکی ہیں۔ سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کی بیان کردہ حدیث اور درج ذیل روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ میت کے لیے کھڑا ہونا منسوخ ہو چکا ہے، امام مالک، امام ابوحنیفہ اور امام شافعی رحمہم اللہ کی یہی رائے ہے۔ سیّدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنازے کے لیے کھڑے ہوتے تھے، یہاں تک کہ اسے لحد میں رکھ دیا جاتا تھا، ایک دن ایک یہودی عالم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا اور کہا: ہم بھی اسی طرح کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی بیٹھ گئے اور یہ بھی فرمایا: ((اِجْلِسُوْا خَالِفُوْھمُ۔ْ)) یعنی: ’’بیٹھ جاؤ اور ان کی مخالفت کرو۔‘‘ (ابوداود: ۳۱۷۶)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3236
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لانقطاعه، فان محمد بن علي بن الحسين لم يدرك الحسن بن علي وابن عباس أخرج بنحوه النسائي: 4/ 47 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1722، 1733 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1733»