حدیث نمبر: 3235
عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ مَرَّ بِهِمْ جَنَازَةٌ فَقَامَ الْقَوْمُ وَلَمْ يَقُمْ، فَقَالَ الْحَسَنُ: مَا صَنَعْتُمْ؟ إِنَّمَا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَأْذِّيًا بِرِيحِ الْيَهُودِيِّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کے پاس سے ایک جنازہ گزرا، اسے دیکھ کر لوگ کھڑے ہو گئے، لیکن وہ بیٹھے رہے، پھر سیّدناحسن رضی اللہ عنہ نے پوچھا: یہ تم نے کیا کیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو صرف یہودی میت کی بدبو کی تکلیف کی وجہ سے کھڑے ہوئے تھے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3235
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، الحجاج بن ارطاة مدلس، ومحمد بن علي بن الحسين لم يدرك الحسن بن علي عم ابيه۔ أخرج بنحوه النسائي: 4/ 47 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1722 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1722»