الفتح الربانی
أبواب صلاة الجنازة— نماز جنازہ کے ابواب
بَابُ مَنْ قَالَ بِنَسْخِ الْقِيَامِ لِلْجَنَازَةِ باب: میت کو دیکھ کر کھڑے ہونے کے منسوخ ہو جانے کا بیان
حدیث نمبر: 3235
عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ مَرَّ بِهِمْ جَنَازَةٌ فَقَامَ الْقَوْمُ وَلَمْ يَقُمْ، فَقَالَ الْحَسَنُ: مَا صَنَعْتُمْ؟ إِنَّمَا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَأْذِّيًا بِرِيحِ الْيَهُودِيِّترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کے پاس سے ایک جنازہ گزرا، اسے دیکھ کر لوگ کھڑے ہو گئے، لیکن وہ بیٹھے رہے، پھر سیّدناحسن رضی اللہ عنہ نے پوچھا: یہ تم نے کیا کیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو صرف یہودی میت کی بدبو کی تکلیف کی وجہ سے کھڑے ہوئے تھے۔