حدیث نمبر: 3234
عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي بْنَ إِبْرَاهِيمَ وَهُوَ التُّسْتَرِيُّ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدٌ قَالَ: نُبِّئْتُ أَنَّ جَنَازَةً مَرَّتْ عَلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ وَابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقَامَ الْحَسَنُ وَقَعَدَ ابْنُ عَبَّاسٍ، فَقَالَ الْحَسَنُ لابْنِ عَبَّاسٍ: أَلَمْ تَرَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَرَّتْ بِهِ جَنَازَةٌ فَقَامَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: بَلَى وَقَدْ جَلَسَ، فَلَمْ يُنْكِرِ الْحَسَنُ مَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

محمد بن سیرین کہتے ہیں: مجھے یہ بتلایا گیا کہ سیّدناحسن بن علی رضی اللہ عنہ اور سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس سے ایک جنازہ گزرا، اسے دیکھ کر سیّدنا حسن رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے، لیکن سیّدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ بیٹھے رہے، سیّدنا حسن رضی اللہ عنہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا : کیا تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا نہیں تھا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے جنازہ گزرا تو آپ کھڑے ہو گئے تھے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، لیکن پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھ گئے تھے۔یہ سن کر سیّدنا حسن رضی اللہ عنہ نے ان کی بات پر کوئی انکار نہیں کیا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3234
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره۔ أخرجه النسائي: 4/ 46، 47، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1726 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1726»