الفتح الربانی
أبواب صلاة الجنازة— نماز جنازہ کے ابواب
بَابُ مَنْ قَالَ بِنَسْخِ الْقِيَامِ لِلْجَنَازَةِ باب: میت کو دیکھ کر کھڑے ہونے کے منسوخ ہو جانے کا بیان
حدیث نمبر: 3232
عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ قَالَ: كُنَّا مَعَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَمَرَّ بِهِ جَنَازَةٌ فَقَامَ لَهَا نَاسٌ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: مَنْ أَفْتَاكُمْ هَذَا؟ فَقَالُوا: أَبُو مَوسَى، فَقَالَ: إِنَّمَا فَعَلَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَرَّةً فَكَانَ يَتَشَبَّهُ بِأَهْلِ الْكِتَابِ، فَلَمَّا نُهِيَ انْتَهَىترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابومعمر کہتے ہیں: ہم سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، وہاں سے ایک جنازہ گزرا اورلوگ اسے دیکھ کر کھڑے ہو گئے۔ سیّدنا علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تمہیں کھڑے ہونے کا فتویٰ کس نے دیا؟ لوگوں نے کہا کہ سیّدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ نے، یہ سن کر سیّدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ عمل صرف ایک دفعہ کیا تھا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پسند کرتے تھے کہ اہل کتاب سے موافقت اختیار کی جائے، لیکن جب (اللہ کی طرف سے) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو روک دیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رک گئے۔
وضاحت:
فوائد: … سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کا یہ کہنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا صرف ایک یہودی کے ساتھ کیا تھا، تو گزارش ہے کہ سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کو صرف ایک واقعہ کا علم تھا، وگرنہ پچھلے باب کی احادیث سے معلوم ہو رہا ہے کہ یہ واقعہ ایک سے زائد دفعہ پیش آیا تھا۔ فوائد: … سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کا یہ کہنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا صرف ایک یہودی کے ساتھ کیا تھا، تو گزارش ہے کہ سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کو صرف ایک واقعہ کا علم تھا، وگرنہ پچھلے باب کی احادیث سے معلوم ہو رہا ہے کہ یہ واقعہ ایک سے زائد دفعہ پیش آیا تھا۔