حدیث نمبر: 3230
عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ عَنْ عَمِّهِ يَزِيدَ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي أَصْحَابِهِ فَطَلَعَتْ جَنَازَةٌ، فَلَمَّا رَآهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثَارَ وَثَارَ أَصْحَابُهُ مَعَهُ، فَلَمْ يَزَالُوا قِيَامًا حَتَّى نَفَذَتْ، قَالَ: وَاللَّهِ! مَا أَدْرِي مِنْ تَأْذٍ بِهَا، أَوْ مِنْ تَضَايُقِ الْمَكَانِ، وَلَا أَحْسَبُهَا إِلَّا يَهُودِيًّا أَوْ يَهُودِيَّةً، وَمَا سَأَلْنَا عَنْ قِيَامِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنا یزید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے صحابہ میں تشریف فرما تھے، اتنے میں ایک جنازہ نظر آیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ جلدی سے کھڑے ہو گئے اور اس کے گزر جانے تک کھڑے رہے۔ اللہ کی قسم! مجھے یہ معلوم نہ ہو سکا کہ آپ اس کی (بدبو) کی تکلیف کی وجہ سے کھڑے ہوئے یا جگہ کی تنگی کی وجہ سے، جبکہ میرا تو یہی خیال ہے کہ وہ جنازہ کسی یہودی مرد یا عورت کا تھا، بہرحال ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کھڑے ہونے کا سبب دریافت نہیں کیا تھا۔

وضاحت:
فوائد: … چونکہ سابقہ احادیث میں غیر مسلم کے جنازے کو دیکھ کر کھڑے ہونے کی وجوہات بیان کی جا چکی ہیں، البتہ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سیّدنا یزید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو ان کا علم نہیں تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3230
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح۔ أخرجه النسائي: 4/ 45، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19453 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19682»