حدیث نمبر: 3226
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَمَرَّتْ بِنَا جَنَازَةٌ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَعَهُ فَذَهَبْنَا لِنَحْمِلَهَا إِذَا هِيَ جَنَازَةُ يَهُودِيَّةٍ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّهَا جَنَازَةُ يَهُودِيَّةٍ، قَالَ: ((إِنَّ لِلْمَوْتِ فَزَعًا، فَإِذَا رَأَيْتُمُ الْجَنَازَةَ فَقُومُوا لَهَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

(دوسری سند) سیّدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ تھے، ہمارے قریب سے ایک جنازہ گزرا، اسے دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہو گئے اور ہم بھی اس کو اٹھانے کے لیے چل پڑے، لیکن اچانک پتہ چلا کہ وہ تو ایک یہودی عورت کا جنازہ تھا، جب ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوبتایا کہ یہ تو ایک یہودی عورت کا جنازہ ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک موت کی گھبراہٹ ہوتی ہے، اس لیے تم جنازہ دیکھ کر کھڑے ہو جایا کرو۔

وضاحت:
فوائد: … یعنی موت کو دیکھنے کے بعد غفلت کو ختم کرنے کے لیے مسلمان کو کھڑا ہو جانا چاہیے، تاکہ وہ عبرت حاصل کرے اور تساہل ترک کر دے، اس لیے اس معاملے میں مسلم اور غیر مسلم جنازے کو برابر قرار دیا گیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3226
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14872»