حدیث نمبر: 3222
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا وَكِيعٌ عَنِ ابْنِ أَبِي ذَئْبٍ عَنِ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا مَعَ مَرْوَانَ، فَمَرَّتْ جَنَازَةٌ فَمَرَّ بِهِ أَبُو سَعِيدٍ فَقَالَ: قُمْ أَيُّهَا الْأَمِيرُ! فَقَدْ عَلِمَ هَذَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا تَبِعَ جَنَازَةً لَمْ يَجْلِسْ حَتَّى تُوَضَعَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مروان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، وہاں سے ایک جنازہ گزرا، سیّدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ بھی وہاں سے گزرے اور انھوں نے کہا: اے امیر! کھڑے ہو جاؤ، یہ (ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ) جانتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کسی جنازہ کے ساتھ جاتے تو اس وقت تک نہ بیٹھتے ،جب تک اس کو زمین پر نہ رکھ دیا جاتا۔

وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کے دوسرے طرق سے پتہ چلتا ہے کہ سیّدنا ابوہریرہ اور سیّدنا ابو سعیدdاور مروان سب نے اس میت کی نماز جنازہ ادا کی تھی، بلکہ مروان نے توا مامت کروائی تھی، جنازے کے بعد جب مروان بیٹھا تو اس کے ساتھ سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی بیٹھ گئے، ممکن ہے کہ سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہا س کھڑے ہونے کو واجب نہ سمجھتے ہوں یا پھر انھوں نے مصلحت سے کام لیا ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3222
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1309، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11927 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11949»