الفتح الربانی
أبواب صلاة الجنازة— نماز جنازہ کے ابواب
بَابُ النَّهْيِ عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَازَةِ بِنَارٍ أَوْ صِيَاحٍ أَوْ نِسَاءٍ باب: جنازے کے ساتھ آگ لے جانے، چیخ و پکار کرنے اور عورتوں کے جانے کا ممنوع ہونا
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ نَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذْ بَصُرَ بِامْرَأَةٍ لَا نَظُنُّ أَنَّهُ عَرَفَهَا، فَلَمَّا تَوَجَّهْنَا إِلَى الطَّرِيقِ وَقَفَ حَتَّى انْتَهَتْ إِلَيْهِ، فَإِذَا فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَقَالَ: ((مَا أَخْرَجَكِ مِنْ بَيْتِكِ يَا فَاطِمَةُ؟))، قَالَتْ: أَتَيْتُ أَهْلَ هَذَا الْبَيْتِ فَرَحَّمْتُ إِلَيْهِمْ مَيِّتَهُمْ وَعَزَّيْتُهُمْ، فَقَالَ: ((لَعَلَّكِ بَلَغْتِ مَعَهُمُ الْكُدَى؟))، قَالَتْ: مَعَاذَ اللَّهِ! أَنْ أَكُونَ بَلَغْتُهَا مَعَهُمْ وَقَدْ سَمِعْتُكَ تَذْكُرُ فِي ذَلِكَ مَا تَذْكُرُ، قَالَ: ((لَوْ بَلَغْتِهَا مَعَهُمْ مَا رَأَيْتِ الْجَنَّةَ حَتَّى يَرَاهَا جَدُّ أَبِيكِ))سیّدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ایک دفعہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ جا رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نگاہ ایک خاتون پر پڑی، ہمارا یہ خیال نہیں تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے پہچان لیا ہو گا، جب ہم راستہ کی طرف مڑے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رک گئے، یہاں تک کہ وہ خاتون آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ گئی، وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: فاطمہ! تم کس غرض سے گھر سے باہر آئی ہو؟ انہوں نے کہا: میں فلاں گھر والوں کے پاس گئی تھی، ان کے میت کے حق میں رحمت کے کلمات کہے اور (ان کے فوت ہونے والے آدمی کی وجہ سے) ان کے ساتھ تعزیت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کہ تو ان کے ہمراہ کدیٰ (قبرستان) پہنچ گئی ہو؟ انہوں نے کہا: اللہ کی پناہ کہ میں ان کے ساتھ کدی مقام تک پہنچتی، جبکہ میں اس بارے میں آپ کے (وعید والے) کلمات سن چکی ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم ان کے ساتھ اس مقام تک پہنچ جاتی تو اس وقت تک جنت کو نہ دیکھ سکتیں، جب تک تیرا باپ نہ دیکھ لیتا۔