حدیث نمبر: 3215
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ نَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذْ بَصُرَ بِامْرَأَةٍ لَا نَظُنُّ أَنَّهُ عَرَفَهَا، فَلَمَّا تَوَجَّهْنَا إِلَى الطَّرِيقِ وَقَفَ حَتَّى انْتَهَتْ إِلَيْهِ، فَإِذَا فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَقَالَ: ((مَا أَخْرَجَكِ مِنْ بَيْتِكِ يَا فَاطِمَةُ؟))، قَالَتْ: أَتَيْتُ أَهْلَ هَذَا الْبَيْتِ فَرَحَّمْتُ إِلَيْهِمْ مَيِّتَهُمْ وَعَزَّيْتُهُمْ، فَقَالَ: ((لَعَلَّكِ بَلَغْتِ مَعَهُمُ الْكُدَى؟))، قَالَتْ: مَعَاذَ اللَّهِ! أَنْ أَكُونَ بَلَغْتُهَا مَعَهُمْ وَقَدْ سَمِعْتُكَ تَذْكُرُ فِي ذَلِكَ مَا تَذْكُرُ، قَالَ: ((لَوْ بَلَغْتِهَا مَعَهُمْ مَا رَأَيْتِ الْجَنَّةَ حَتَّى يَرَاهَا جَدُّ أَبِيكِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ایک دفعہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ جا رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نگاہ ایک خاتون پر پڑی، ہمارا یہ خیال نہیں تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے پہچان لیا ہو گا، جب ہم راستہ کی طرف مڑے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رک گئے، یہاں تک کہ وہ خاتون آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ گئی، وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: فاطمہ! تم کس غرض سے گھر سے باہر آئی ہو؟ انہوں نے کہا: میں فلاں گھر والوں کے پاس گئی تھی، ان کے میت کے حق میں رحمت کے کلمات کہے اور (ان کے فوت ہونے والے آدمی کی وجہ سے) ان کے ساتھ تعزیت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کہ تو ان کے ہمراہ کدیٰ (قبرستان) پہنچ گئی ہو؟ انہوں نے کہا: اللہ کی پناہ کہ میں ان کے ساتھ کدی مقام تک پہنچتی، جبکہ میں اس بارے میں آپ کے (وعید والے) کلمات سن چکی ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم ان کے ساتھ اس مقام تک پہنچ جاتی تو اس وقت تک جنت کو نہ دیکھ سکتیں، جب تک تیرا باپ نہ دیکھ لیتا۔

وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کے آخری جملے کو سخت وعید پر محمول کیا جائے گا، بہرحال یہ حدیث ضعیف ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3215
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، ربيعة بن سيف المعافري، قال البخاري: عنده مناكير، وضعفه الازدي والنسائي، وقال النسائي ايضا: لا بأس به، وقال الدارقطني: صالح، وذكره ابن حبان في ’’الثقات‘‘: 6/ 301 وقال: كان يخطيء كثيرا أخرجه ابوداود: 3123، والنسائي: 4/ 27 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6574 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6574»