الفتح الربانی
أبواب صلاة الجنازة— نماز جنازہ کے ابواب
بَابُ النَّهْيِ عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَازَةِ بِنَارٍ أَوْ صِيَاحٍ أَوْ نِسَاءٍ باب: جنازے کے ساتھ آگ لے جانے، چیخ و پکار کرنے اور عورتوں کے جانے کا ممنوع ہونا
حدیث نمبر: 3213
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَا تُتْبَعُ الْجَنَازَةُ بِنَارٍ وَلَا صَوْتٍ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنازہ کے ساتھ آگ اور آواز نہیں ہونی چاہیے۔
وضاحت:
فوائد: … آواز سے مراد نوحہ، چیخ و پکار اور بلند آواز سے مخصوص ذکر جیسے ناپسندیدہ اور بدعتی امور ہیں، ہمارے ہاں بعض لوگ چارپائی کو کندھا دیتے وقت ’’کلمۂ شہادت‘‘ کا لفظ دوہراتے ہیں، یہ لفظ غیر مسنون بھی ہے اور بے معنی بھی۔ قیس بن عباد کہتے ہیں: کَانَ اَصْحَابُ النَّبِیِّV یَکْرَھُوْنَ رَفْعَ الصَّوْتِ عِنْدَ الْجَنَائِزِ۔ یعنی: صحابہ کرامe جنازوں کے پاس بلندآواز کو ناپسند کرتے تھے۔ (سنن بیہقی: ۴/۷۴)