الفتح الربانی
أبواب صلاة الجنازة— نماز جنازہ کے ابواب
بَابُ الْمَشْيِ أَمَامَ الْجَنَازَةِ وَخَلْفَهَا - وَمَا جَاءَ فِي الرُّكُوبِ مَعَهَا باب: جنازہ کے آگے پیچھے چلنے اور سوار ہو کر جانے کا بیان
حدیث نمبر: 3211
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَا يَتْبَعُ الْجَنَازَةَ صَوْتٌ وَلَا نَارٌ وَلَا يُمْشَى بَيْنَ يَدَيْهَا))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہ آواز اور آگ کو جنازے کے پیچھے لگایا جائے اور نہ اس کے آگے چلا جائے۔
وضاحت:
فوائد: … اس باب کی احادیث ِ مبارکہ کا خلاصہ یہ ہے کہ جنازے کے ساتھ پیدل جانا چاہیے، بہرحال سوار ہو کر جانا بھی جائز ہے، جنازے کے ساتھ والے پیدل لوگ جنازے کے آگے پیچھے اور دائیں بائیں کہیں بھی چل سکتے ہیں، افضل یہی ہے کہ پیچھے چلا جائے، کیونکہ عام احادیث کا بھی یہی تقاضا ہے اور سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کا قول بھی بڑا واضح ہے، سوار لوگوں کو پیچھے ہی رہنا چاہیے، واپسی پر بلا کراہت سوار ہونا جائز ہے۔