الفتح الربانی
كتاب العلم— علم کے ابواب
بَابٌ فِيمَا جَاءَ فِي رَفْعِ الْعِلْمِ باب: علم کے اٹھائے جانے کا بیان
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا كَانَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ مُرْدِفٌ الْفَضْلَ بْنَ عَبَّاسٍ عَلَى جَمَلٍ آدَمٍ فَقَالَ: ((يَا أَيُّهَا النَّاسُ! خُذُوا مِنَ الْعِلْمِ قَبْلَ أَنْ يُقْبَضَ الْعِلْمُ وَقَبْلَ أَنْ يُرْفَعَ الْعِلْمُ)) وَقَدْ كَانَ أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ، وَإِنْ تَسْأَلُوا عَنْهَا حِينَ يُنَزَّلُ الْقُرْآنُ تُبْدَ لَكُمْ، عَفَا اللَّهُ عَنْهَا وَاللَّهُ غَفُورٌ حَلِيمٌ} قَالَ: فَكُنَّا نَذْكُرُهَا كَثِيرًا مِنْ مَسْأَلَتِهِ وَاتَّقَيْنَا ذَاكَ حِينَ أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَأَتَيْنَا أَعْرَابِيًّا فَرَشَوْنَاهُ بِرِدَاءٍ، قَالَ: فَاعْتَمَّ بِهِ حَتَّى رَأَيْتُ حَاشِيَةَ الْبُرْدِ خَارِجَةً مِنْ حَاجِبِهِ الْأَيْمَنِ، قَالَ: ثُمَّ قُلْنَا لَهُ: سَلِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَقَالَ لَهُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! كَيْفَ يُرْفَعُ الْعِلْمُ مِنَّا وَبَيْنَ أَظْهُرِنَا الْمَصَاحِفُ وَقَدْ تَعَلَّمْنَا مَا فِيهَا وَعَلَّمْنَا هَا نِسَاءَنَا وَذُرَّارِيَّنَا وَخَدَمَنَا؟ قَالَ: فَرَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ وَقَدْ عَلَتْ وَجْهَهُ حُمْرَةٌ مِنَ الْغَضَبِ، قَالَ: فَقَالَ: ((أَيْ ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ، وَهَذِهِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى بَيْنَ أَظْهُرِهِمُ الْمَصَاحِفُ لَمْ يُصْبِحُوا يَتَعَلَّقُونَ بِحَرْفٍ مِمَّا جَاءَتْهُمْ بِهِ أَنْبِيَاؤُهُمْ، أَلَا وَإِنَّ مِنْ ذَهَابِ الْعِلْمِ أَنْ يَذْهَبَ حَمَلَتُهُ)) ثَلَاثَ مِرَارٍسیدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفید اونٹ پر سوار تھے اور سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کو پیچھے بٹھایا ہوا تھا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگو! علم حاصل کرو، قبل اس کے کہ علم سلب کر لیا جائے اور اس کو اٹھا لیا جائے۔“ ادھر اللہ تعالیٰ نے یہ فرمان بھی نازل کر دیا تھا: «یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَسْئَلُوْا عَنْ اَشْیَآئَ اِنْ تُبْدَ لَکُمْ تَسُؤْکُمْ» (اے ایمان والو! ایسی باتیں مت پوچھو کہ اگر تم پر ظاہر کر دی جائیں تو تمہیں ناگوار ہوں۔) ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑے سوالات کرتے تھے، لیکن جب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر یہ آیت نازل فرمائی تو ہم نے سوال کرنے سے بچنا شروع کر دیا۔ (ایک دن ایک سوال کرنے کی خاطر) ہم ایک بدو کے پاس گئے اور اس کام کے لیے اسے ایک چادر دی، اس نے اس سے پگڑی باندھی اور چادر کا کنارہ دائیں ابرو کی طرف سے نکلا ہوا نظر آ رہا تھا، پھر ہم نے اس سے کہا: ”تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک سوال کر،“ پس اس نے سوال کرتے ہوئے کہا: ”اے اللہ کے نبی! ہم سے علم کیسے اٹھایا جائے گا، جبکہ ہمارے اندر قرآن مجید موجود ہے اور ہم نے اس کی تعلیم حاصل کی ہے اور اپنی عورتوں، بچوں اور خادموں کو اس کی تعلیم دی ہے؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا اور غصے کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر سرخی نظر آ رہی تھی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے فلاں! تجھے تیری ماں گم پائے، یہ یہودی اور عیسائی ہیں، ان کے اندر ان کی کتابیں موجود ہیں، لیکن صورتحال یہ ہے کہ ان کے انبیاء جو کچھ لائے ہیں، یہ اس کی ایک شق پر بھی عمل پیرا نہیں ہیں، خبردار! علم کا اٹھ جانا یہ ہے کہ حاملینِ علم اٹھ جائیں گے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات تین دفعہ ارشاد فرمائی۔