الفتح الربانی
أبواب صلاة الجنازة— نماز جنازہ کے ابواب
بَابُ الْمَشْيِ أَمَامَ الْجَنَازَةِ وَخَلْفَهَا - وَمَا جَاءَ فِي الرُّكُوبِ مَعَهَا باب: جنازہ کے آگے پیچھے چلنے اور سوار ہو کر جانے کا بیان
حدیث نمبر: 3206
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((الرَّاكِبُ خَلْفَ الْجَنَازَةِ وَالْمَاشِي أَمَامَهَا قَرِيبًا عَنْ يَمِينِهَا أَوْ عَنْ يَسَارِهَا، وَالسِّقْطُ يُصَلَّى عَلَيْهِ وَيُدْعَى لِوَالِدَيْهِ بِالْمَغْفِرَةِ وَالرَّحْمَةِ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سوارجنازے کے پیچھے چلے اور پیدل آدمی اس کے سامنے اور دائیں بائیں قریب قریب چل سکتا ہے اور نامکمل مردہ پیدا ہو جانے والے بچے کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی اور اس کے والدین کے لیے بخشش اور رحمت کی دعا کی جائے گی۔