حدیث نمبر: 3203
عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مَعَ جَنَازَةِ ثَابِتِ بْنِ الدَّحْدَاحَةِ عَلَى فَرَسٍ أَغَرَّ مُحَجَّلٍ، تَحْتَهُ لَيْسَ عَلَيْهِ سَرْجٌ، مَعَهُ النَّاسُ وَهُمْ حَوْلَهُ، قَالَ: فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى عَلَيْهِ ثُمَّ جَلَسَ حَتَّى فَرَغَ مِنْهُ، ثُمَّ قَامَ فَقَعَدَ عَلَى فَرَسِهِ، ثُمَّ انْطَلَقَ يَسِيرُ حَوْلَهُ الرِّجَالُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ سیّدنا ثابت بن دحدحہ رضی اللہ عنہ کے جنازہ میں تشریف لے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک گھوڑے پر سوار تھے، اس کا منہ اور چاروں پاؤں سفید تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نیچے کوئی زین وغیرہ بھی نہیں تھی، لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اردگرد چل رہے تھے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اتر کر نماز جنازہ پڑھائی اور بیٹھے رہے یہاں تک کہ تدفین سے فارغ ہوگئے،اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور گھوڑے پر سوار ہو کر چلنے لگے، جبکہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارد گرد چل رہے تھے۔

وضاحت:
فوائد: … صحیح مسلم اور مسند احمد کی دوسری روایات کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیّدنا ثابت بن دحداحہ رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ ادا کرنے کے بعدگھوڑے پر سوار ہوئے، لیکن اس روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جاتے وقت بھی سوار ہو کر گئے تھے، لیکن یہ روایت ضعیف ہے، جبکہ درج ذیل روایت سے بھی جاتے وقت پیدل چلنا ہی ثابت ہوتا ہے:
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3203
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «ھذا الحديث باطل بھذا السياق لان عمر بن موسي كان يضع الحديث و أخرجه مسلم: 965 بلفظ قريب منه ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20834، 20944 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21251»