الفتح الربانی
أبواب صلاة الجنازة— نماز جنازہ کے ابواب
بَابُ الْمَشْيِ أَمَامَ الْجَنَازَةِ وَخَلْفَهَا - وَمَا جَاءَ فِي الرُّكُوبِ مَعَهَا باب: جنازہ کے آگے پیچھے چلنے اور سوار ہو کر جانے کا بیان
عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مَعَ جَنَازَةِ ثَابِتِ بْنِ الدَّحْدَاحَةِ عَلَى فَرَسٍ أَغَرَّ مُحَجَّلٍ، تَحْتَهُ لَيْسَ عَلَيْهِ سَرْجٌ، مَعَهُ النَّاسُ وَهُمْ حَوْلَهُ، قَالَ: فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى عَلَيْهِ ثُمَّ جَلَسَ حَتَّى فَرَغَ مِنْهُ، ثُمَّ قَامَ فَقَعَدَ عَلَى فَرَسِهِ، ثُمَّ انْطَلَقَ يَسِيرُ حَوْلَهُ الرِّجَالُسیّدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ سیّدنا ثابت بن دحدحہ رضی اللہ عنہ کے جنازہ میں تشریف لے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک گھوڑے پر سوار تھے، اس کا منہ اور چاروں پاؤں سفید تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نیچے کوئی زین وغیرہ بھی نہیں تھی، لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اردگرد چل رہے تھے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اتر کر نماز جنازہ پڑھائی اور بیٹھے رہے یہاں تک کہ تدفین سے فارغ ہوگئے،اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور گھوڑے پر سوار ہو کر چلنے لگے، جبکہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارد گرد چل رہے تھے۔