الفتح الربانی
أبواب صلاة الجنازة— نماز جنازہ کے ابواب
بَابُ الْمَشْيِ أَمَامَ الْجَنَازَةِ وَخَلْفَهَا - وَمَا جَاءَ فِي الرُّكُوبِ مَعَهَا باب: جنازہ کے آگے پیچھے چلنے اور سوار ہو کر جانے کا بیان
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ثَنَا الْهَجَرِيُّ قَالَ: خَرَجْتُ فِي جَنَازَةِ بِنْتِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ عَلَى بَغْلَةٍ لَهُ حَوَّاءَ يَعْنِي سَوْدَاءَ، قَالَ: فَجَعَلَ النِّسَاءُ يَقُلْنَ لِقَائِدِهَا: قَدِّمْهُ أَمَامَ الْجَنَازَةِ فَفَعَلَ، قَالَ: فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ لَهُ: أَيْنَ الْجَنَازَةُ؟ قَالَ: قَالَ: خَلْفَكَ، قَالَ: قَالَ: فَفَعَلَ ذَلِكَ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: أَلَمْ أَنْهَكَ أَنْ تُقَدِّمَنِي أَمَامَ الْجَنَازَةِ، قَالَ: سَمِعَ امْرَأَةً تَلْتَدِمُ وَقَالَ مَرَّةً تَرْثِي (وَفِي رِوَايَةٍ فَجَعَلَ النِّسَاءُ يَبْكِينَ) فَقَالَ: مَهْ، أَلَمْ أَنْهَكُنَّ عَنْ هَذَا؟ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْهَى عَنِ الْمَرَاثِي لِتُفِضْ إِحْدَاكُنَّ مِنْ عَبْرَتِهَا مَا شَاءَتْ، فَلَمَّا وَضِعَتِ الْجَنَازَةُ تَقَدَّمَ فَكَبَّرَ عَلَيْهَا أَرْبَعَ تَكْبِيرَاتٍ، ثُمَّ قَامَ هُنَيَّةً فَسَبَّحَ بِهِ بَعْضُ الْقَوْمِ فَانْفَتَلَ فَقَالَ: أَكُنْتُمْ تَرَوْنَ أَنِّي أُكَبِّرُ الْخَامِسَةَ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ كَانَ إِذَا كَبَّرَ الرَّابِعَةَ قَامَ هُنَيَّةً، فَلَمَّا وَضِعَتِ الْجَنَازَةُ جَلَسَ وَجَلَسْنَا فَسُئِلَ عَنْ لَحْمِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ فَقَالَ: تَلَقَّانَا يَوْمَ خَيْبَرَ حُمُرٌ أَهْلِيَّةٌ خَارِجًا مِنَ الْقَرْيَةِ فَوَقَعَ النَّاسُ فِيهَا فَذَبَحُوهَا، فَإِنَّ الْقُدُورَ لَتَغْلِي بِبَعْضِهَا إِذْ نَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: أَهْرِيقُوهَا، قَالَ فَأَهْرَقْنَاهَا، وَرَأَيْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى مِطْرَفًا مِنْ خَزٍّابو اسحاق ابراہیم بن مسلم ہجری کہتے ہیں:میں سیّدناعبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی کے جنازہ میں شریک ہوا، وہ خود اپنے سیاہ رنگ کے خچر پر سوار تھے، عورتوں نے ان کے کوچوان سے کہا : ان کو جنازہ سے آگے لے چلو، چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا۔ اتنے میں سیّدنا عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: جنازہ کہاں ہے؟ کوچوان نے بتایا کہ وہ تو پیچھے ہے، انہوں نے ایک دو مرتبہ یہ سوال کر کے کہا: کیا میں نے تجھے اس سے منع نہیں کیا تھا کہ تو مجھے جنازے سے آگے لے آئے۔ اتنے میں انھوں نے ایک عورت کو چہرہ پیٹتے ہوئے سنا، ایک روایت میں مرثیہ پڑھنے اور ایک روایت میں رونے کا ذکر ہے، بہرحال انھوں نے کہا: چپ ہو جاؤ،کیا میں نے تمہیں اس کام سے روکا نہیں تھا؟ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مرثیوں سے منع کیا ہے،ہاں تم جس قدر چاہو آنسو بہا سکتی ہو، پھر جب جنازہ رکھ دیا گیا تو وہ آگے بڑھے اور چار تکبیرات کہیں، اس کے بعد کچھ دیر خاموش کھڑے رہے، کچھ لوگوں نے سبحان اللہ کہہ کر لقمہ دیا، نماز سے فارغ ہو کر انہوں نے کہا: کیا تمہارا خیال یہ تھا کہ میں پانچویں تکبیر کہوں گا؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں۔ انہوں نے کہا: بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب چوتھی تکبیر کہتے تو اسی طرح تھوڑی دیر ٹھہر جاتے تھے۔ پھر جب جنازہ رکھ دیا گیا تو وہ بیٹھ گئے اور ہم بھی ان کے اردگرد بیٹھ گئے۔ اس وقت ان سے پالتو گدھوں کے متعلق دریافت کیا گیا تو انھوں نے کہا: خیبر کے موقع پر ہم نے بستی سے باہر کچھ گدھے پائے اور ان کو ذبح کر دیا، ابھی ہنڈیوں میں کچھ گوشت ابلنے ہی لگا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے ایک اعلان کرنے والے نے اعلان کیا: ان کو بہا دو، پس ہم نے ان کو بہا دیا۔ اس دن میں نے سیّدنا عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ پر ایک اونی چادر دیکھی جس کے کناروں پر ریشم کی کڑھائی تھی۔