الفتح الربانی
أبواب صلاة الجنازة— نماز جنازہ کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي حَمْلِ الْجَنَازَةِ وَالْإِسْرَاعِ بِهَا مِنْ غَيْرِ رَمَلٍ باب: جنازہ کو اٹھانے، اس کو لے چلنے اور اس سے متعلقہ دیگر امور کا بیان¤جنازہ کو اٹھانے اور دوڑے بغیر تیزی سے لے کر جانے کا بیان
حدیث نمبر: 3201
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ: مَرَّتْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَنَازَةٌ تُمْخَضُ مَخْضَ الزِّقِّ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((عَلَيْكُمُ الْقَصْدَ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) سیّدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا، مشکیزے کی طرح ہل رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میانہ روی اختیار کرو۔
وضاحت:
فوائد: … جنازہ اٹھانا مسلمانوں کا ایک دوسرے کے ساتھ تعاون ہے، لیکن اس تعاون کی شکل یہ نہیں ہونی