الفتح الربانی
كتاب العلم— علم کے ابواب
بَابٌ فِيمَا جَاءَ فِي رَفْعِ الْعِلْمِ باب: علم کے اٹھائے جانے کا بیان
عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُرَشِيِّ قَالَ: حَدَّثَنَا جُبَيْرُ بْنُ نُفَيْرٍ عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ (الْأَشْجَعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) أَنَّهُ قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ نَظَرَ إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ قَالَ: ((هَذَا أَوَانُ الْعِلْمِ أَنْ يُرْفَعَ))، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ زِيَادُ بْنِ لَبِيدٍ: أَيُرْفَعُ الْعِلْمُ يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَفِينَا كِتَابُ اللَّهِ وَقَدْ عَلَّمْنَا أَبْنَاءَنَا وَنِسَاءَنَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنْ كُنْتُ لَأَظُنُّكَ مِنْ أَفْقَهِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ)) ثُمَّ ذَكَرَ ضَلَالَةَ أَهْلِ الْكِتَابَيْنِ وَعِنْدَهُمَا مَا عِنْدَهُمَا مِنْ كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَلَقِيَ جُبَيْرُ بْنُ نُفَيْرٍ شَدَّادَ بْنَ أَوْسٍ (رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) بِالْمُصَلَّى فَحَدَّثَهُ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَوْفٍ فَقَالَ: صَدَقَ عَوْفٌ، ثُمَّ قَالَ: وَهَلْ تَدْرِي مَا رَفْعُ الْعِلْمِ؟ قَالَ: قُلْتُ: لَا أَدْرِي، قَالَ: ذَهَابُ أَوْعِيَتِهِ، قَالَ: وَهَلْ تَدْرِي أَيُّ الْعِلْمِ أَوَّلُ أَنْ يُرْفَعَ؟ قَالَ: قُلْتُ: لَا أَدْرِي، قَالَ: الْخَشْوُعُ حَتَّى لَا تَكَادُ تَرَى خَاشِعًاسیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم لوگ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمان کی طرف دیکھا اور فرمایا: ”یہ علم کے اٹھ جانے کا وقت ہو گا۔“ زیاد بن لبید نامی ایک انصاری آدمی نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! کیا علم اٹھا لیا جائے گا، جبکہ ہمارے اندر اللہ تعالیٰ کی کتاب موجود ہے اور ہم اپنے بچوں اور عورتوں کو اس کی تعلیم دے رہے ہیں؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تو تجھے اہل مدینہ میں سب سے زیادہ سمجھدار لوگوں میں سے سمجھتا تھا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو کتابوں والوں یعنی یہودیوں اور عیسائیوں کی گمراہی اور ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی کتاب کی جو صورتحال ہے، اس کا ذکر کیا۔ جب جبیر بن نفیر کی سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے عید گاہ کے مقام پر ملاقات ہوئی تو انہوں نے ان کو سیدنا عوف رضی اللہ عنہ کی حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ”جی عوف نے سچ کہا ہے،“ پھر انہوں نے کہا: ”اور کیا تم جانتے ہو کہ علم کا اٹھ جانا کیا ہے؟“ میں نے کہا: ”جی نہیں،“ انہوں نے کہا: ”اس سے مراد علم کے برتنوں کا اٹھ جانا ہے، اور کیا تو جانتا ہے کہ سب سے پہلے کون سا علم اٹھایا جائے گا؟“ میں نے کہا: ”جی نہیں،“ انہوں نے کہا: ”نماز میں خشوع، (اور اس چیز کا اتنا فقدان ہو جائے گا کہ) ممکن ہو گا کہ تو خشوع کرنے والا کوئی شخص نہ دیکھے۔“
حضرات! شرعی علم حاصل کرنا، یہ ایک فکر ہے، یہ ایک منہج ہے، اس مقصد کے لیے تگ و دو کرنے کا مطلب اپنے آپ کو پابند کرنا ہے، بار بار نیت کو درست کرنا ہے۔ نیز اس نقطے پر غور کرنا ہے کہ شرعی علم کے حصول کا مقصد کیا ہے، اگر اپنی اور امت کی اصلاح مطلوب ہو تو مبارک، لیکن اگر بیچ میں نمود و نمائش، ریاکاری، شخصیت کو نمایاں کرنے، لوگوں کی طرف سے تعریف وصول کرنے اور دنیا حاصل کرنے کی بد بو آنے لگ گئی تو رفعتیں پستیوں میں بدل جاتی ہیں۔اس حدیث کے آخری حصے سے معلوم ہوا کہ عمل بھی علم ہے، بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ شریعت کا اصل مطلوب تو عمل ہی ہے، البتہ اس مقصود کے حصول کے لیے علم ضروری ہے، جس علم کے ساتھ عمل نہ ہو، وہ اہل علم کے لیے رحمت کی بجائے زحمت بن جاتا ہے، عمل سے مراد فرائض کی ادائیگی اور محرمات سے اجتناب ہے۔