الفتح الربانی
كتاب التوحيد— توحید کی کتاب
بابٌ فِيمَا جَاءَ فِي نَعِيمِ الْمُوَحِّدِينَ وَثَوَابِهِمْ وَوَعِيدِ الْمُشْرِكِينَ باب: توحیدوالوں کی نعمتوں اور ثواب اور شرک والوں کی وعید اور عذاب کا بیان
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَنَا مِمَّنْ شَهِدَ مُعَاذًا حِينَ حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ يَقُولُ: اكْشِفُوا عَنِّي سَجْفَ الْقُبَّةِ، أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أُحَدِّثَكُمُوهُ إِلَّا أَنْ تَتَّكِلُوا، سَمِعْتُهُ يَقُولُ: ((مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُخْلِصًا مِنْ قَلْبِهِ أَوْ يَقِينًا مِنْ قَلْبِهِ لَمْ يَدْخُلِ النَّارَ، وَقَالَ مَرَّةً: دَخَلَ الْجَنَّةَ وَلَمْ تَمَسَّهُ النَّارُ))سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں بھی لوگوں کے ساتھ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کی وفات کے وقت ان کے پاس حاضر تھا، انہوں نے کہا: قبے کا پردہ اٹھا دو، میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی ایک حدیث بیان کرتا ہوں، اس سے پہلے یہ حدیث بیان کرنے سے یہ مانع تھا کہ تم توکل کر لو گے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”جو آدمی دل کے اخلاص یا (راوی نے کہا) یقین سے یہ شہادت دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے، تو وہ آگ میں داخل نہیں ہو گا،“ اور ایک دفعہ کہا: ”تو وہ جنت میں داخل ہو گا اور آگ اس کو نہیں چھو سکے گی۔“