الفتح الربانی
أبواب صلاة الجنازة— نماز جنازہ کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي حَمْلِ الْجَنَازَةِ وَالْإِسْرَاعِ بِهَا مِنْ غَيْرِ رَمَلٍ باب: جنازہ کو اٹھانے، اس کو لے چلنے اور اس سے متعلقہ دیگر امور کا بیان¤جنازہ کو اٹھانے اور دوڑے بغیر تیزی سے لے کر جانے کا بیان
عَنْ عُيَيْنَةَ ثَنَا أَبِي قَالَ: خَرَجْتُ فِي جَنَازَةِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: فَجَعَلَ رِجَالٌ مِنْ أَهْلِهِ يَسْتَقْبِلُونَ الْجَنَازَةَ فَيَمْشُونَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ، وَيَقُولُونَ رُوَيْدًا بَارَكَ اللَّهُ فِيكُمْ، قَالَ: فَلَحِقَنَا أَبُو بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ طَرِيقِ الْمِرْبَدِ فَلَمَّا رَأَى أَوْلَئِكَ وَمَا يَصْنَعُونَ حَمَلَ عَلَيْهِمْ بِبَغْلَتِهِ، وَأَهْوَى لَهُمْ بِالسَّوْطِ وَقَالَ: خَلُّوا، فَوَالَّذِي كَرَّمَ وَجْهَ أَبِي قَاسِمٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ رَأَيْتُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّا لَنَكَادُ أَنْ نَرْمُلَ بِهَاعیینہ کے والد عبدالرحمن بن جوشن کہتے ہیں:میں عبدالرحمن بن سمرہ کے جنازہ کے ساتھ نکلا اور دیکھا کہ ان کے گھرانے کے بعض لوگ اس جنازے آگے آگے الٹے پاؤں چلتے ہوئے یہ کہہ رہے ہیں: (لوگو!) اللہ تم میں برکت کرے، آرام سے چلو۔اسی اثنا میں سیّدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ مربد والے راستے سے ہمیں آ ملے، جب ان لوگوں کو یہ کام کرتے دیکھا تو خچر ان پر چڑھا دیا اور اپنی لاٹھی ان پر لہرائی اور کہا:ہٹ جاؤ۔ اس ذات کی قسم جس نے ابو القاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے کو عزت بخشی! میں نے اس سلسلہ میں لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ دیکھا، قریب ہوتا تھا کہ ہم دوڑ ہی پڑیں۔