حدیث نمبر: 3195
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَأَلْنَا نَبِيَّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ السَّيْرِ بِالْجَنَازَةِ، فَقَالَ: السَّيْرُ مَا دُونَ الْخَبَبِ، فَإِنْ يَكُ خَيْرًا يُعَجَّلْ إِلَيْهِ أَوْ تُعَجَّلْ إِلَيْهِ، وَإِنْ يَكَ سِوَى ذَلِكَ فَبُعْدًا لِأَهْلِ النَّارِ، الْجَنَازَةُ مَطْبُوعَةٌ وَلَا تَتْبَعُ، لَيْسَ مِنَّا مَنْ تَقَدَّمَهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جنازہ کو لے کر جانے کی کیفیت کے بارے میں سوال کیا،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے لے کر تیزی سے چلا جائے، لیکن دوڑا نہ جائے، اگر وہ میت نیک ہوا تو وہ بھلائی کی طرف جلدی پہنچے گا اور اگر نیک نہ ہوا تو آگ والوں کے لیے ہلاکت ہے، جنازے کے پیچھے پیچھے چلا جائے، اس کو پیچھے نہ لگایا جائے، جو جنازے کے آگے چلے گا وہ ہم میں سے نہیں ہو گا۔

وضاحت:
فوائد: … پیدل چلنے والے لوگ جنازے کے دائیں بائیں اور آگے پیچھے چل سکتے ہیں، آگے اس مسئلہ کی وضاحت آ رہی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3195
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة أبي ماجد الحنفي، ويحيي بن عبد الله بن الحارث التيمي ضعفه ابن معين وأبوحاتم والنسائي، وقال احمد: ليس به بأس، وقال العجلي: يكتب حديثه وليس بالقوي، ووثقه الترمذي۔ أخرجه ابوداود: 3184، والترمذي: 1011، وابن ماجه: 1484 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3585، 3939 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3939»