الفتح الربانی
أبواب صلاة الجنازة— نماز جنازہ کے ابواب
بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ فِي الْمَسْجِدِ باب: مسجد میں نماز جنازہ کا بیان
حدیث نمبر: 3192
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ فِي الْمَسْجِدِ فَلَيْسَ لَهُ شَيْءٌ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
لیکن یہ روایت صحیح ہے، کیونکہ اس صالح سے ابن ابی ذئب کا سماع اس کے اختلاط سے پہلے کا تھا، جیسا کہ شیخ البانی نے وضاحت کی ہے، ملاحظہ ہو: (صحیحہ: ۲۳۵۱۔ أخرجہ ابوداود: ۳۱۹۱، وابن ماجہ: ۱۵۱۷(انظر: ۹۷۳۰)۔ سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے مسجد میں نماز جنازہ پڑھی، اس کے لیے کوئی ثواب نہیں ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اگر اس روایت کے لفظ ’’لَہٗ‘‘ میں ’’لام‘‘ کو ’’عَلٰی‘‘ کے معنی میں لیا جائے تو اس روایت کا معنی یہ ہو گا: ’’جس نے مسجد میں نماز جنازہ پڑھی، اس پر کوئی گناہ نہیں۔‘‘ جبکہ سنن ابوداود کے الفاظ بھی ’’فَـلَا شَیْئَ عَلَیْہِ‘‘ کے ہیں اور قرآن و حدیث نصوص میں ’’لام‘‘ کو ’’عَلٰی‘‘ کے معنی میں استعمال کیا جاتا ہے، جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: {وَاِنْ اَسَأْتُمْ فَلَھَا} یعنی ’’فَعَلَیْھَا‘‘ اگر اس حدیث کا یہ معنی کیا جائے تو اس کا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی سابقہ روایات سے کوئی تعارض نہیں رہے گا، لیکن اس کا معنی ’’اس کے لیے کوئی ثواب نہیں ہے‘‘ ہی کیا جائے تو پھر تعارض پیدا ہو جائے گا۔