الفتح الربانی
كتاب العلم— علم کے ابواب
بَابٌ فِيمَا جَاءَ فِي رَفْعِ الْعِلْمِ باب: علم کے اٹھائے جانے کا بیان
عَنْ زِيَادِ بْنِ لَبِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا فَقَالَ: ((وَذَاكَ عِنْدَ أَوَانِ ذَهَابِ الْعِلْمِ)) قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَكَيْفَ يَذْهَبُ الْعِلْمُ وَنَحْنُ نَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَنُقْرِئُهُ أَبْنَاءَنَا وَيُقْرِئُهُ أَبْنَاءُنَا أَبْنَاءَهُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ: ((ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ يَا ابْنَ أُمِّ لَبِيدٍ، إِنْ كُنْتُ لَأَرَاكَ مِنْ أَفْقَهِ رَجُلٍ بِالْمَدِينَةِ، أَوَلَيْسَ هَذِهِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى يَقْرَءُونَ التَّوْرَاةَ وَالْإِنْجِيلَ لَا يَنْتَفِعُونَ مِمَّا فِيهِمَا بِشَيْءٍ))سیدنا زیاد بن لبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی چیز کا ذکر کیا اور فرمایا: ”یہ اس وقت ہو گا، جب علم اٹھ جائے گا۔“ ہم نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! علم کیسے ختم ہو جائے گا، جبکہ ہم قرآن مجید پڑھتے ہیں اور اپنے بچوں کو اس کی تعلیم دیتے ہیں اور پھر ہمارے بیٹے اپنے بچوں کو اس کی تعلیم دیں گے اور قیامت کے دن تک یہ سلسلہ جاری رہے گا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابن ام لبید! تجھے تیری ماں گم پائے، میرا خیال تو یہ تھا کہ مدینہ میں سب سے بڑا سمجھ دار اور فقیہ آدمی تو ہے، کیا یہ یہودی اور عیسائی تورات اور انجیل کو نہیں پڑھتے، لیکن صورتحال یہ ہے کہ یہ لوگ ان میں سے کسی چیز سے مستفید نہیں ہو رہے۔“