حدیث نمبر: 3189
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مَاتَ ابْنٌ لِأَبِي طَلْحَةَ فَصَلَّى عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ أَبُو طَلْحَةَ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأُمُّ سُلَيْمٍ خَلْفَ أَبِي طَلْحَةَ كَأَنَّهُمْ عُرْفُ دِيكٍ، وَأَشَارَ بِيَدِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیّدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا بیٹا فوت ہو گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی،سیّدناابوطلحہ رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہو گئے اور سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا ، ان کے پیچھے کھڑی ہوگئیں، وہ مرغ کی کلغی کی طرح لگ رہے تھے، سیّدنا انس رضی اللہ عنہ نے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے اس بات کی وضاحت کی۔

وضاحت:
فوائد: … مرغ کی کلغی سے مراد یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کے پیچھے کھڑے تھے، جیسے مرغ کی کلغی پر ابھرے ہوئے لگاتار نشان ہوتے ہیں۔ سیّدنا انس رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث شواہد کی بنا پر صحیح ہے، دیکھیں باب: ’’نماز جنازہ میں نمازیوں کی کثرت کی وجہ سے میت کے بارے میں رکھی جانے والی (بخشش کی) امید کا بیان‘‘
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3189
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضيعف لجھالة أم يحيي ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13270 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13303»