الفتح الربانی
أبواب صلاة الجنازة— نماز جنازہ کے ابواب
بَابُ مَوْقِفِ الْمُصَلَّى مِنَ الرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ إِذَا كَانَ إِمَامًا أَوْ مُنْفَرِدًا وَكَيْفَ يَفْعَلُ إِذَا اجْتَمَعَتْ أَنْوَاعٌ مِنَ الْجَنَائِزِ باب: اس امر کا بیان کہ امام یا منفرد آدمی مرد اور عورت کی نماز جنازہ پڑھاتے وقت کہاں کھڑا ہو¤اور جب متعدد جنازے ہوں تو کیا کیا جائے؟
حدیث نمبر: 3188
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى أُمِّ فُلَانٍ (وَفِي رِوَايَةٍ: أُمِّ كَعْبٍ) مَاتَتْ فِي نِفَاسِهَا فَقَامَ وَسْطَهَاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدناسمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ام فلاں(یعنی سیدہ ام کعب رضی اللہ عنہا ) ، جو نفاس کی حالت میں فوت ہوئی تھیں، کی نماز جنازہ پڑھی اور اس کے درمیان میں کھڑے ہوئے۔
وضاحت:
فوائد: … ان روایات سے معلوم ہوا کہ امام کو مرد میت کے سر کے سامنے اور عورت میت کے سرین کے سامنے کھڑے ہونا چاہیے،امام شافعی اور امام احمد کی یہی رائے ہے، لیکن امام ابوحنیفہ کے ایک قول کے مطابق امام ہر میت کے سینے کے برابر کھڑا ہو گا، وہ مرد ہو یا عورت، لیکن ان روایات کی روشنی میں پہلا مسلک قوی ہے۔