حدیث نمبر: 3179
عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْجَابِرِ قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ عِيسَى مَوْلَى لِحُذَيْفَةَ (بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) بِالْمَدَائِنِ عَلَى جَنَازَةٍ فَكَبَّرَ خَمْسًا، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيْنَا فَقَالَ: مَا وَهَمْتُ، وَلَا نَسِيتُ وَلَكِنْ كَبَّرْتُ كَمَا كَبَّرَ مَوْلَايَ وَوَلِيُّ نِعْمَتِي حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ وَكَبَّرَ خَمْسًا، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيْنَا فَقَالَ: مَا نَسِيتُ وَلَا وَهَمْتُ وَلَكِنْ كَبَّرْتُ كَمَا كَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى جَنَازَةٍ فَكَبَّرَ خَمْسًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

یحییٰ بن عبد اللہ کہتے ہیں:میں نے مدائن میں سیّدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کے غلام عیسیٰ کی اقتدا میں نماز جنازہ ادا کی، انہوں نے پانچ تکبیرات کہیں، پھرہماری طرف متوجہ ہوئے اور کہا: مجھے وہم ہوا ہے نہ میں بھولا ہوں، میں نے تو اسی طرح تکبیرات کہی ہیں، جس طرح میرے آقا سیّدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہی تھیں، انہوں نے ایک جنازہ پڑھا اور پانچ تکبیرات کہیں، پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر کہا: میں بھولا ہوں نہ مجھے وہم ہوا ہے، بات یہ ہے کہ میں نے اسی طرح تکبیرات کہی ہیں جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانچ تکبیرات کہیں ہیں۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3179
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، وھذا اسناد ضعيف، يحيي بن عبد الله التيمي مختلف فيه، ولم يتابع علي حديثه ھذا، وعيسي مولي حذيفة البزاز ضعفه الدارقطني أخرجه الخطيب في ’’تاريخ بغداد‘‘: 11/ 142، والطحاوي في ’’شرح معاني الآثار‘‘: 1/ 494، والدارقطني: 2/ 73، و أخرجه ابن ابي شيبة: 3/ 303 مقتصرا علي فعل حذيفة ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23448 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23841»