حدیث نمبر: 3178
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى جَنَازَةٍ فَكَبَّرَ خَمْسًا، فَقَامَ إِلَيْهِ أَبُو عَيْسَى عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى، فَأَخَذَ بِيَدِهِ فَقَالَ: نَسِيتَ؟ قَالَ: لَا، وَلَكِنْ صَلَّيْتُ خَلْفَ أَبِي الْقَاسِمِ خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَكَبَّرَ خَمْسًا فَلَا أَتْرُكُهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

(دوسری سند) عبد الاعلی کہتے ہیں:میں نے سیّدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کی اقتدا میں نماز جنازہ ادا کی،انہوں نے پانچ تکبیرات کہیں، ابو عیسیٰ عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ ان کی طرف گئے اور ان کا ہاتھ پکڑ کر کہا: کیا آپ بھول گئے تھے؟ انہوں نے کہا: جی نہیں، میں نے اپنے خلیل ابو القاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے نماز جنازہ پڑھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی پانچ تکبیرات کہی تھیں، لہٰذا میں اس عمل کو ترک نہیں کروں گا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3178
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، عبد الاعلي بن عامر الثعلبي قد اتفقوا علي ضعفه أخرجه الطحاوي في ’’شرح معاني الآثار‘‘: 1 494، والطبراني في ’’الاوسط‘‘: 1844، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:19300 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19515»