الفتح الربانی
أبواب صلاة الجنازة— نماز جنازہ کے ابواب
بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى الْقَبْرِ بَعْدَ الدَّفْنِ باب: دفن کے بعد قبر پر نماز جنازہ پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 3173
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ شُعْبَةَ قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيَّ قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْ مَرَّ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَبْرٍ مَنْبُوذٍ، فَأَمَّهُمْ وَصَفُّوا خَلْفَهُ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَمْرٍو! وَمَنْ حَدَّثَكَ؟ قَالَ: ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) امام شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: مجھے ایک ایسے آدمی نے خبر دی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں ایک الگ تھلگ قبر کے پاس سے گزرا تھا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کی امامت کرائی اور انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے صفیں بنائیں۔ سلیمان شیبانی نے کہا: اے ابو عمرو! آپ کو یہ واقعہ کس نے بیان کیا تھا؟ انھوں نے کہا: سیّدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے۔
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث سے ثابت ہوا کہ دفن کر دی جانے والی میت پر بھی نماز جنازہ ادا کی جا سکتی ہے، اگرچہ اس کی نماز جنازہ پہلے پڑھی جا چکی ہو، کیونکہ درج بالا صورتوں میں صحابہ کرام نے نماز جنازہ پڑھ کر ہی ان لوگوںکو دفنایا تھا، اس ضمن میں مخصوص قیدوں کی شرط لگانا باطل ہے، مثلا: تدفین سے تیسرے دن تک نماز جنازہ پڑھی جا سکتی ہے، یا ایک ماہ تک، یا جب تک کہ جسم تر نہ ہو جائے، یا جب تک جسم مٹی نہ بن جائے۔ اسی طرح نماز جنازہ کی اس صورت کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خاص کر دینا بھی درست نہیں ہے، کیونکہ اس خصوصیت کی کوئی دلیل نہیں ہے۔