حدیث نمبر: 3169
عَنْ أَنَسِ (بْنِ مَالِكِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) أَنَّ أَسْوَدَ كَانَ يُنَظِّفُ الْمَسْجِدَ، فَدُفِنَ لَيْلًا وَأَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأُخْبِرَ فَقَالَ: ((انْطَلِقُوا إِلَى قَبْرِهِ))، فَانْطَلَقُوا إِلَى قَبْرِهِ، فَقَالَ: ((إِنَّ هَذِهِ الْقُبُورَ مُمْتَلِئَةٌ عَلَى أَهْلِهَا ظُلْمَةً، وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُنَوِّرُهَا بِصَلَاتِي عَلَيْهَا))، فَأَتَى الْقَبْرَ فَصَلَّى عَلَيْهِ، وَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ أَخِي مَاتَ وَلَمْ تُصَلِّ عَلَيْهِ، قَالَ: فَأَيْنَ قَبْرُهُ؟ فَأَخْبَرَهُ فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَعَ الْأَنْصَارِيِّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک سیاہ فام آدمی مسجد کی صفائی کیا کرتا تھا، وہ رات کو فوت ہو گیا اور اسے رات کو ہی دفن کر دیا گیا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کی اطلاع دی گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چلو اس کی قبر کی طرف، یہ قبریں اندھیرے سے بھری ہوئی ہیں، اللہ تعالیٰ ان کو ان پر میری نماز کی وجہ سے روشن کر دیتا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی قبر کے پاس آئے اور اس کی نماز جنازہ ادا کی۔ ایک انصاری صحابی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرا بھائی فوت ہوا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: اس کی قبر کہاں ہے؟ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلایا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے ہمراہ وہاں تشریف لے گئے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3169
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره۔ أخرجه الدارقطني: 2/ 77، والطيالسي: 2446۔ وأخرجه مختصرا مسلم: 955 بلفظ: ان النبيV صلي علي قبر۔ ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12318، 12517 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12445»