الفتح الربانی
أبواب صلاة الجنازة— نماز جنازہ کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْغَائِبِ باب: غائبانہ نماز جنازہ کا بیان
حدیث نمبر: 3163
عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ، فَقَالَ: ((صَلُّوا عَلَى أَخٍ لَكُمْ مَاتَ بِغَيْرِ أَرْضِكُمْ))، قَالُوا: مَنْ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: ((صَحْمَةُ النَّجَاشِيُّ))، فَقَامُوا فَصَلَّوْا عَلَيْهِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا: اپنے ایک بھائی کی نماز جنازہ پڑھو، جو علاقہ غیر میں فوت ہو گیا ہے۔ صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! وہ کون؟ فرمایا: صحمہ نجاشی۔ چنانچہ صحابہ کھڑے ہوئے اور اس کی نماز جنازہ پڑھی۔
وضاحت:
فوائد: … اس نجاشی کا نام ’’اصحمہ‘‘ تھا، جیسا کہ اس سے پہلے والی حدیث میں گزر چکا ہے، وہ روایات شاذ ہیں، جن میں اس کا نام ’’صحمہ‘‘ یا ’’صمحہ‘‘ بتلایا گیا ہے۔