الفتح الربانی
أبواب صلاة الجنازة— نماز جنازہ کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْغَائِبِ باب: غائبانہ نماز جنازہ کا بیان
حدیث نمبر: 3160
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: نَعَى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ النَّجَاشِيَّ فِي الْيَوْمِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ فَخَرَجَ إِلَى الْمُصَلَّى فَصَفَّ أَصْحَابَهُ وَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جس روز نجاشی کا انتقال ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی دن ہمیں اس کی وفات کی اطلاع دی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جنازہ گاہ یا عید گاہ کی طرف تشریف لے گئے اور اس کی نماز جنازہ پڑھائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام کی صف بندی کی اور اس پر چار تکبیرات کہیں۔
وضاحت:
فوائد: … یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ تھا کہ حبشہ میں ہونے والی وفات کا اسی دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پتہ چل گیا تھا، حبشہ کے بادشاہ کا لقب نجاشی ہوتا تھا۔ حافظ ابن حجرkنے کہا: ظاہر بات یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نجاشی کی نماز جنازہ پڑھنے کیلئے جنازہ گاہ یا عید گاہ کی طرف اس لیے گئے تاکہ مسلمانوں کی بڑی تعداد جمع ہو جائے اور یہ بات بھی مشہور ہو جائے کہ اس نے اسلام پر وفات پائی ہے، کیونکہ بعض لوگوں کو اس کے مسلمان ہونے کا علم ہی نہ تھا۔ ابن ابی حاتم نے تفسیر میں