الفتح الربانی
أبواب صلاة الجنازة— نماز جنازہ کے ابواب
بَابُ هَلْ يُصَلِّي الْإِمَامُ عَلَى مَنْ قُتِلَ فِي حَدٍّ أَمْ لَا باب: جو شخص کسی شرعی حد میں قتل کیا جائے، امام اس کی نماز جنازہ پڑھے یا نہ پڑھے، اس کا بیان
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ جُهَيْنَةَ اعْتَرَفَتْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِزِنًا، وَقَالَتْ: أَنَا حُبْلَى، فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلِيَّهَا، فَقَالَ: ((أَحْسِنْ إِلَيْهَا، فَإِذَا وَضَعَتْ فَأَخْبِرْنِي))، فَفَعَلَ، فَأَمَرَ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَشُكَّتْ عَلَيْهَا ثِيَابُهَا، ثُمَّ أَمَرَ بِرَجْمِهَا فَرُجِمَتْ، ثُمَّ صَلَّى عَلَيْهَا، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! رَجَمْتَهَا، ثُمَّ تُصَلِّي عَلَيْهَا؟ فَقَالَ: ((لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ قُسِمَتْ بَيْنَ سَبْعِينَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَوَسَعَتْهُمْ، وَهَلْ وَجَدْتَّ شَيْئًا أَفْضَلَ مِنْ أَنْ جَادَتْ بِنَفْسِهَا لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى؟))سیّدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جہینہ قبیلے کی ایک خاتون نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ کر زنا کا اقرار کیا اور بتلایا کہ وہ اس وقت حاملہ بھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے سرپرست کو بلایا اور اس سے فرمایا: اس کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آؤ، جب یہ بچہ جنم دے تو مجھے بتلانا۔ چنانچہ اس نے ایسے ہی کیا۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس خاتون کے متعلق حکم دیا، سو اس پر اس کا لباس اچھی طرح باندھ دیا گیا اور پھر اسے رجم کرنے کا حکم دیا اور اسے رجم کر دیا گیا۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی۔ لیکن سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے پہلے تو اسے رجم کیا اور اب اس کی نماز جنازہ پڑھ رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اس کو تمام اہل مدینہ میں تقسیم کیا جائے تو وہ سب کو کفایت کر جائے گی۔ بھلا کیا تم نے اس سے افضل چیز بھی پائی ہے کہ اس نے خود کو اللہ تعالیٰ کے لیے قربان کر دیا ہے۔