حدیث نمبر: 3157
عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا دُعِيَ لِجَنَازَةٍ سَأَلَ عَنْهَا فَإِنْ أُثْنِيَ عَلَيْهَا خَيْرٌ قَامَ فَصَلَّى عَلَيْهَا، وَإِنْ أُثْنِيَ عَلَيْهَا غَيْرُ ذَلِكَ، قَالَ لِأَهْلِهَا: ((شَأْنُكُمْ بِهَا))، وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز جنازہ کے لیے بلایا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے بارے میں پوچھتے تھے،اگراس کے حق میں بھلائی کی باتیں کی جاتیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی نماز جنازہ ادا کر لیتے، لیکن اگر اس کے برعکس باتیں کی جاتیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے: تم خود اس کا کچھ کر لو۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی نماز جنازہ نہ پڑھتے۔

وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیانت کرنے والے اور خود کشی کرنے والے کی نماز جنازہ ادا نہیں کی اورشروع شروع میں مقروض کی نماز جنازہ بھی ادا نہیں کرتے تھے۔ اس حدیث میں برعکس باتوں سے مراد کون سے نقائص ہیں،
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3157
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين أخرجه ابن حبان: 3057، وعبد بن حميد: 196، والحاكم:1/ 364 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22555 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22922»