الفتح الربانی
أبواب صلاة الجنازة— نماز جنازہ کے ابواب
بَابُ تَرْكِ الْإِمَامِ الصَّلَاةَ عَلَى الْغَالِّ وَقَاتِلِ نَفْسِهِ وَنَحْوِهَا باب: وقت کے امام کا خیانت کرنے والے اور خودکشی کرنے والے جیسے لوگوںکی نماز جنازہ نہ پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 3157
عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا دُعِيَ لِجَنَازَةٍ سَأَلَ عَنْهَا فَإِنْ أُثْنِيَ عَلَيْهَا خَيْرٌ قَامَ فَصَلَّى عَلَيْهَا، وَإِنْ أُثْنِيَ عَلَيْهَا غَيْرُ ذَلِكَ، قَالَ لِأَهْلِهَا: ((شَأْنُكُمْ بِهَا))، وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهَاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز جنازہ کے لیے بلایا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے بارے میں پوچھتے تھے،اگراس کے حق میں بھلائی کی باتیں کی جاتیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی نماز جنازہ ادا کر لیتے، لیکن اگر اس کے برعکس باتیں کی جاتیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے: تم خود اس کا کچھ کر لو۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی نماز جنازہ نہ پڑھتے۔
وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیانت کرنے والے اور خود کشی کرنے والے کی نماز جنازہ ادا نہیں کی اورشروع شروع میں مقروض کی نماز جنازہ بھی ادا نہیں کرتے تھے۔ اس حدیث میں برعکس باتوں سے مراد کون سے نقائص ہیں،