حدیث نمبر: 3155
عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ تُوُفِّي بِخَيْبَرَ، وَأَنَّهُ ذُكِرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ))، قَالَ: فَتَغَيَّرَتْ وُجُوهُ الْقَوْمِ لِذَلِكَ فَلَمَّا رَأَى الَّذِي بِهِمْ قَالَ: ((إِنَّ صَاحِبَكُمْ غَلَّ فِي سَبِيلِ اللَّهِ))، فَفَتَّشْنَا مَتَاعَهُ فَوَجَدْنَا فِيهِ خَرَزًا مِنْ خَرَزِ الْيَهُودِ مَا يُسَاوِي دِرْهَمَيْنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مسلمان خیبر میں فوت ہو گیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم خود ہی اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھ لو۔ یہ سن کر صحابہ کے چہرے متغیر ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب ان کی پریشانی دیکھی تو فرمایا: تمہارے اس ساتھی نے اللہ کی راہ میں (مالِ غنیمت میں سے) خیانت کی ہے۔ پھر ہم نے اس کے سامان کی تلاشی لی تو ہمیں اس میں یہودیوں کے موتیوں میں سے کچھ موتی ملے، جو دو درہموں کے برابر تھے۔

وضاحت:
فوائد: … بلاشک و شبہ مسلمانوں کو خائن کی نماز جنازہ ادا کرنی چاہیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ نماز ادا نہ کرنا، اس سے مقصود لوگوں کو زجرو توبیخ کرنا تھا، تاکہ دوسرے لوگ ایسے جرم کا ارتکاب کرنے سے باز رہیں۔ ہمارے معاشرے میں اس سنت پر عمل کرنے کی صورت یہ ہو گی کہ شہر کے مشہور و معروف علمائے دین ایسے مجرموںکے جنازے میں شرکت کرنے سے گریز کریں۔ اس حدیث ِ مبارکہ سے خائن لوگوں کو عبرت حاصل کرنی چاہیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو درہموں
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3155
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن۔ أخرجه ابوداود: 2710، والنسائي: 4/ن 64، وابن ماجه: 2848، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17031، 21675 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17156»