الفتح الربانی
أبواب صلاة الجنازة— نماز جنازہ کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الصَّغِيرِ وَالسِّقْطِ وَعَدَمِهَا باب: چھوٹے اور قبل از وقت پیدا ہونے والے نامکمل بچے کی نماز جنازہ پڑھنے اور نہ پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 3152
عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((السِّقْطُ (وَفِي رِوَايَةٍ الطِّفْلُ) يُصَلَّى عَلَيْهِ وَيُدْعَى لِوَالِدَيْهِ بِالْمَغْفِرَةِ وَالرَّحْمَةِ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنامغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قبل از وقت نامکمل پیدا ہونے والے بچے کی نماز جنازہ پڑھی جائے اور اس کے والدین کے حق میں مغفرت و رحمت کی دعا کی جائے۔
وضاحت:
فوائد: … احادیث صحیحہ کی روشنی میں حمل ٹھہرنے سے چار ماہ کے بعدبچے میں روح پھونک دی جاتی ہے اور وہ ایک (زندہ) جان بن جاتا ہے، اس لیے اگر اس مدت کے بعد حمل ساقط ہو جاتا ہے تو اس کی نماز جنازہ پڑھی جاتی ہے، جس میں اس کے والدین کے لیے دعا کی جاتی ہے۔