الفتح الربانی
أبواب صلاة الجنازة— نماز جنازہ کے ابواب
بَابُ مَا يُرْجَى لِلْمَيِّتِ بِكَثْرَةِ الْمُصَلِّينَ عَلَيْهِ باب: نماز جنازہ میں نمازیوں کی کثرت کی وجہ سے میت کے بارے میں رکھی جانے والی¤(بخشش کی) امید کا بیان
حدیث نمبر: 3147
عَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصَلَّى عَلَيْهِ أُمَّةٌ إِلَّا شُفِّعُوا فِيهِ))، قَالَ أَبُو الْمَلِيحِ: الْأُمَّةُ أَرْبَعُونَ إِلَى مَائَةٍ فَصَاعِدًاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس مسلمان کی نماز جنازہ پڑھنے والی ایک امت ہو تو اس کے حق میں ان کی سفارش قبول کی جاتی ہے۔ ابوملیح راوی کہتا ہے: چالیس سے سو اور اس سے زائد تک کے افراد کو امت کہتے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … ابو ملیح کی یہ تفسیر مذکورہ بالا احادیث کے مفہوم کے موافق ہے، کیونکہ ایک حدیث میں چالیس افراد کا ذکر ہے اور ایک میں سوکا۔ ان احادیث میں نماز جنازہ میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کے شریک ہونے کی ترغیب دلائی گئی ہے، بہرحال ان کا اہل توحید اور اہل اخلاص ہونا ضروری ہے۔