الفتح الربانی
أبواب صلاة الجنازة— نماز جنازہ کے ابواب
بَابُ مَا يُرْجَى لِلْمَيِّتِ بِكَثْرَةِ الْمُصَلِّينَ عَلَيْهِ باب: نماز جنازہ میں نمازیوں کی کثرت کی وجہ سے میت کے بارے میں رکھی جانے والی¤(بخشش کی) امید کا بیان
حدیث نمبر: 3146
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَمُوتُ فَيَقُومُ عَلَى جَنَازَتِهِ أَرْبَعُونَ رَجُلًا لَا يُشْرِكُونَ بِاللَّهِ شَيْئًا إِلَّا شَفَّعَهُمْ اللَّهُ فِيهِ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو مسلمان فوت جائے اور اس کے جنازے میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہ کرنے والے چالیس آدمی کھڑے ہوں تو اللہ تعالیٰ اس کے حق میں ان کی سفارش قبول کر لیتا ہے۔