حدیث نمبر: 3142
عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَنْ تَبِعَ جَنَازَةً حَتَّى يُصَلَّى عَلَيْهَا وَيُفْرَغَ مِنْهَا فَلَهُ قِيرَاطَانِ، وَمَنْ تَبِعَ حَتَّى يُصَلَّى عَلَيْهَا فَلَهُ قِيرَاطٌ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ! لَهُوَ أَثْقَلُ فِي مِيزَانِهِ مِنْ أُحُدٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص میت کے ساتھ جائے (اور اس کے ساتھ ہی رہے) یہاں تک کہ نماز جنازہ اور (تدفین) سے فارغ ہو جائے تو اس کے دو قیراط اجر ہو گا اور جو آدمی اس کے ساتھ جائے، یہاں تک کہ اس پر نماز سے فارغ ہوا جائے، اس کے لیے ایک قیراط اجر ہو گا۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی جان ہے! یہ قیراط اس شخص کے ترازو میں احد پہاڑ سے بھی بھاری ہو گا۔

وضاحت:
فوائد: … اس باب کی احادیث میں میت کے ساتھ جانے، نماز جنازہ پڑھنے اور تدفین تک ساتھ رہنے کی فضیلت بیان کی گئی ہے، تمام احادیث اپنے مفہوم میں واضح ہیں، ان احادیث کا مفہوم یہ ہے کہ نماز جنازہ پڑھ کر واپس آ جانے والے کو اجر و ثواب کا ایک قیراط اور نماز کے بعد تدفین کے مراحل سے فارغ ہونے کے بعد آنے والے کو دو قیراط ملیں گے۔ ’’قیراط‘‘ تھوڑی مقدار کے ایک وزن کا نام تھا، جودرہم کے بارہویں حصے کے برابر تھا، اِن احادیث میں مذکورہ قیراط سے مراد یہ نہیں ہے، اس کی مقدار کتنی ہے؟ اس کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود وضاحت کر دی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجنازة / حدیث: 3142
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، حجاج بن أرطاة قد توبع أخرجه ابن ماجه: 1541 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21201 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21520»