الفتح الربانی
أبواب صلاة الجنازة— نماز جنازہ کے ابواب
بَابُ فَضْلِ الصَّلَاةِ عَلَى الْمَيِّتِ وَتَشْيِيعِ الْجَنَازَةِ باب: نماز جنازہ پڑھنے اور میت کے ساتھ جانے کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 3141
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَنْ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ وَشَيَّعَهَا كَانَ لَهُ قِيرَاطَانِ، وَمَنْ صَلَّى عَلَيْهَا وَلَمْ يُشَيِّعْهَا كَانَ لَهُ قِيرَاطٌ، وَالْقِيرَاطُ مِثْلُ أُحُدٍ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص میت کی نماز جنازہ پڑھتا ہے، پھر اسے رخصت کرنے کے لیے (قبر تک) ساتھ رہتا ہے تو اسے اجر کے دو قیراط ملتے ہیں اور جو نماز پڑھ کر (واپس آ جاتا ہے اور) آخر تک اس کے ساتھ نہیں رہتا، تو اسے ایک قیراط ملتا ہے، ایک قیراط احد پہاڑ جتنا بڑا ہوتا ہے۔