الفتح الربانی
أبواب صلاة الجنازة— نماز جنازہ کے ابواب
بَابُ فَضْلِ الصَّلَاةِ عَلَى الْمَيِّتِ وَتَشْيِيعِ الْجَنَازَةِ باب: نماز جنازہ پڑھنے اور میت کے ساتھ جانے کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 3137
عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَنْ تَبِعَ جَنَازَةً، وَفِي رِوَايَةٍ مَنْ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ) فَلَهُ قِيرَاطٌ وَمَنْ شَهِدَ دَفْنَهَا فَلَهُ قِيرَاطَانِ))، قِيلَ: وَمَا الْقِيرَاطَانِ؟ قَالَ: ((أَصْغَرُهُمَا مِثْلُ أُحُدٍ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
مولائے رسول سیّدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص میت کے ساتھ جا کر نماز جنازہ پڑھے، اسے ایک قیراط اور جو دفن تک ساتھ رہے، اسے دو قیراط اجر ملتا ہے۔ کسی نے کہا: دو قیراطوں سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چھوٹاقیراط احد پہاڑ کے برابر ہوتا ہے۔